اگر آپ موسمِ خزاں کی کسی تاریک اور صاف رات کو شہر کی روشنیوں سے دور ویران صحرا یا پہاڑ پر کھڑے ہو کر شمال کی جانب دیکھیں تو مجمع النجوم اینڈرومیڈا میں ایک مدہم سا بیضوی بادل تیرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ یہ عام بادل نہیں ہے بلکہ «اینڈرومیڈا کہکشاں» (M31) ہے — دس کھرب دہکتے ستاروں، اربوں سیاروں اور پراسرار نیبولاز پر مشتمل ایک دیو قامت کائناتی جزیرہ جو ہم سے 25 لاکھ نوری سال دور ہے۔ اور سب سے سنسنی خیز بات یہ ہے کہ یہ عظیم کهکشاں تیر کی رفتار سے ہماری طرف بڑھ رہی ہے!
4 لاکھ کلومیٹر فی گھنٹہ کا کائناتی فاصلہ
کائنات کے پھیلنے کے باوجود، باہمی کششِ ثقل (Gravity) کے زیرِ اثر اینڈرومیڈا اور ہماری ملکی وے کہکشاں ایک دوسرے کو کھینچ رہی ہیں۔ یہ دونوں کهکشائیں ایک دوسرے کی طرف 110 کلومیٹر فی سیکنڈ (تقریباً 4 لاکھ کلومیٹر فی گھنٹہ) کی رفتار سے فاصلہ کم کر رہی ہیں۔ اتنی زبردست رفتار کے باوجود، دونوں کے درمیان فاصلہ اتنا زیادہ ہے کہ انہیں ایک دوسرے کے قریب پہنچنے میں پورے 4 ارب سے ساڑھے 4 ارب سال لگیں گے۔
عظیم کائناتی تصادم کا سچ: کوئی ستارہ نہیں ٹکرائے گا!
جب دو کہکشاؤں کے تصادم کا ذکر ہوتا ہے تو ذہن میں اربوں ستاروں کے آپس میں ٹکرا کر تباہ ہونے کی ہولناک تصویر ابھرتی ہے۔ لیکن علمِ فلکیات کا سچ اس کے بالکل الٹ ہے۔ کہکشاؤں کے اندر خلا اتنا بے پناہ اور وسیع ہوتا ہے کہ دو ستاروں کے درمیان اوسطاً لاکھوں کروڑوں کلومیٹر کا خالی فاصلہ ہوتا ہے۔ چنانچہ جب اینڈرومیڈا اور ملکی وے آپس میں ملیں گی تو ان کے ستارے اور نظامِ شمسی ایک دوسرے کے درمیان سے ایسے پرامن طور پر گزر جائیں گے جیسے دو دھویں کے مرغولے آپس میں گھل مل جاتے ہیں۔
«دونوں کہکشاؤں کے انضمام کے بعد ایک عظیم الشان بیضوی کہکشاں بنے گی جسے ماہرین فلکیات نے «ملکومیڈا» (Milkomeda) کا فرضی نام دیا ہے۔»
رات کے آسمان کا بدلتا منظرنامہ
اگر اس وقت زمین پر کوئی انسان موجود ہوا تو اس کے لیے رات کا نظارہ ناقابلِ بیان حد تک دلکش ہو گا۔ وقت گزرنے کے ساتھ اینڈرومیڈا آسمان پر اتنی بڑی اور چمکدار ہوتی جائے گی کہ وہ پورے افق پر ایک دیو قامت روشن محراب کی طرح پھیل جائے گی۔ دونوں کہکشاؤں کے گیسی بادل آپس میں رگڑ کھائیں گے جس کے نتیجے میں کروڑوں نئے اور چمکدار نیلے ستاروں کی پیدائش کا کائناتی جشن برپا ہو گا۔