پیارے بچو! حضرت یونس علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ پیغمبر تھے جنہیں نینویٰ کی بستی کے لوگوں کی ہدایت کے لیے بھیجا گیا۔ جب قوم نے کافی عرصے تک بات نہ مانی تو آپؑ اللہ کے حکم کے انتظار سے پہلے ناراض ہو کر بستی سے نکل پڑے اور ایک بحری جہاز میں سوار ہو گئے۔
سمندر کے بیچ پہنچ کر اچانک ایک شدید سمندری طوفان آیا اور اونچی اونچی لہریں جہاز کو ڈبونے لگیں۔ جہاز والوں نے کہا کہ جہاز کا وزن کم کرنے کے لیے قرعہ اندازی کر کے کسی ایک کو سمندر میں کودنا پڑے گا۔
قرعہ تین بار ڈالا گیا اور تینوں بار حضرت یونسؑ کا نام نکلا۔ آپؑ سمجھ گئے کہ یہ اللہ کی طرف سے آزمائش ہے اور آپ سمندر میں کود گئے۔
اللہ تعالیٰ کے حکم سے سمندر کی ایک بہت بڑی وہیل مچھلی آئی اور اس نے حضرت یونسؑ کو بغیر کوئی نقصان پہنچائے اپنے پیٹ میں نگل لیا۔
مچھلی کے پیٹ میں، سمندر کی تاریکیوں میں اور رات کے اندھیرے میں حضرت یونسؑ نے سچے دل سے اپنے رب کو یاد کیا اور یہ عظیم دعا مانگی:
"لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ”
(ترجمہ: تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، بے شک میں ہی قصورواروں میں سے تھا)۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے نبی کی توبہ اور پکار کو سنا اور مچھلی کو حکم دیا کہ وہ حضرت یونسؑ کو ساحل پر اگل دے۔ ساحل پر اللہ نے ان کے سائے کے لیے کدو کی بیل اگائی اور انہیں صحت عطا فرمائی۔
