پیارے طلبہ! قرآنِ مجید کی سورۃ الکہف میں اللہ تعالیٰ نے چند نیک اور باہمت نوجوانوں کا ایمان افروز واقعہ بیان فرمایا ہے جنہیں "اصحابِ کہف” (غار والے) کہا جاتا ہے۔
یہ واقعہ عیسیٰ علیہ السلام کے بعد کے زمانے کا ہے۔ اس دور میں دَقْیانوس نامی ایک ظالم اور مشرک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ وہ لوگوں کو بتوں کی پوجا کرنے پر مجبور کرتا تھا اور جو انکار کرتا اسے بے دردی سے قتل کروا دیتا تھا۔
اس بستی میں چند امیر اور نیک دل نوجوان رہتے تھے جن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے توحید کا نور بھر دیا تھا۔ انہوں نے کھلم کھلا بتوں کی پوجا سے انکار کر دیا اور اعلان کیا: "ہمارا رب تو وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کا مالک ہے!”
جب بادشاہ کو ان کے انکار کا علم ہوا تو اس نے انہیں دھمکی دی کہ اگر کل تک تم نے اپنے سچے دین کو نہ چھوڑا تو تمہیں عبرتناک سزا دی جائے گی۔
ان نوجوانوں نے اپنے ایمان کی حفاظت کے لیے اپنے گھر بار، والدین اور مال و دولت کو خیرباد کہا اور رات کی تاریکی میں شہر سے نکل گئے۔ راستے میں ایک وفادار کتا (جس کا نام مفسرین نے قطمیر لکھا ہے) بھی ان کے ساتھ ہو لیا۔ انہوں نے کتے کو بھگانے کی کوشش کی لیکن وہ ان کے ساتھ چلتا رہا۔
وہ نوجوان پہاڑوں کے درمیان ایک کشادہ غار میں داخل ہوئے اور وہاں گر کر اللہ سے دعا مانگی: "اے ہمارے رب! ہمیں اپنے پاس سے خاص رحمت عطا فرما اور ہمارے اس معاملے میں ہمارے لیے بھلائی کا راستہ آسان کر دے!”
اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور ان پر اور ان کے کتے پر گہری نیند طاری فرما دی۔ کتا غار کی چوکھٹ پر اپنے اگلے دونوں پاؤں پھیلائے بیٹھا رہا۔
اللہ کی قدرت کا کمال دیکھیے کہ سورج طلوع ہوتا تو ان کے غار کے دائیں طرف سے کترا کر نکل جاتا اور جب غروب ہوتا تو بائیں طرف سے کٹ جاتا، تاکہ ان کے جسموں کو دھوپ کی تپش نہ پہنچے۔ اور اللہ تعالیٰ ان کے جسموں کو دائیں اور بائیں کروٹیں بدلتا رہتا تاکہ ان کی جلد مٹی سے خراب نہ ہو۔
وہ نوجوان اس حالت میں ایک دو دن نہیں، بلکہ پورے ۳۰۹ قمری سال تک غار میں سوتے رہے!
جب اللہ نے انہیں تین صدیوں بعد بیدار کیا تو وہ سمجھے کہ وہ صرف ایک دن یا دن کا کچھ حصہ سوئے ہیں۔ جب ان میں سے ایک ساتھی چاندی کا پرانا سکہ لے کر کھانا خریدنے بازار گیا تو دکاندار حیران رہ گیا۔ بادشاہ اور اس کا پورا دور بدل چکا تھا اور بستی کے تمام لوگ اب مسلمان اور باایمان بن چکے تھے۔ قرآن نے ان کے اس سچے واقعہ کو قیامت تک کے لیے نشانی بنا دیا۔