پیارے بچو! حضرت نوح علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے بہت بڑے اور صابر پیغمبر تھے۔ آپؑ نے اپنی قوم کو ساڑھے نو سو سال تک نیکی، اچھائی اور ایک اللہ کی عبادت کی دعوت دی، لیکن قوم کے اکثر لوگوں نے ضد اور نافرمانی کا راستہ اختیار کیا۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت نوحؑ کو حکم فرمایا کہ وہ ایک بہت بڑی اور مضبوط لکڑی کی کشتی تیار کریں۔ حضرت نوحؑ اور ان کے سچے ساتھیوں نے جنگل میں لکڑیاں کاٹ کر پہاڑ کے اوپر ایک عظیم الشان تین منزلہ کشتی بنانا شروع کی۔ قوم کے نافرمان لوگ ان کا مذاق اڑاتے کہ خشکی پر کشتی کیسے چلے گی؟ لیکن حضرت نوحؑ کو اللہ کے وعدے پر پورا یقین تھا۔
جب کشتی مکمل ہو گئی تو اللہ کا حکم آیا اور زمین سے پانی کے چشمے ابل پڑے اور آسمان سے موسلادھار بارش شروع ہو گئی۔
حضرت نوحؑ نے اللہ کے حکم سے تمام جانوروں (شیر، ہرن، ہاتھی، گھوڑے، پرندوں اور حشرات) کا ایک ایک نر اور مادہ جوڑا کشتی میں سوار کر لیا تاکہ ان کی نسل باقی رہے، اور تمام ایماندار نیک لوگ بھی کشتی میں بیٹھ گئے۔
پانی اتنا بلند ہوا کہ اونچے اونچے پہاڑ بھی ڈوب گئے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے حضرت نوحؑ اور ان کی کشتی کو طوفان کی تیز لہروں میں بالکل محفوظ رکھا۔ جب طوفان تھم گیا تو کشتی جودی پہاڑ پر بحفاظت جا ٹھہری اور دنیا میں دوبارہ امن اور اچھائی کی شروعات ہوئی۔