پیارے بچو! جب ظالم بادشاہ نمرود نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو سچائی کی راہ سے روکنے کے لیے ایک بہت بڑی آگ کا الاؤ جلایا اور حضرت ابراہیمؑ کو اس میں ڈالنے کی تیاری کی، تو زمین کے تمام چرند پرند پریشان ہو گئے۔
ایک ننھی سی چڑیا نے جب یہ منظر دیکھا تو وہ تڑپ اٹھی۔ اس نے فوراً پاس کے تالاب پر جا کر اپنی چھوٹی سی چونچ میں پانی کا ایک قطرہ بھرا اور تیزی سے اڑ کر نمرود کی دہکتی ہوئی آگ پر جا ٹپکایا۔ وہ مسلسل بار بار ندی جاتی اور چونچ میں پانی کا قطرہ لا کر آگ پر ڈالتی۔
درخت پر بیٹھے ایک کوے نے ہنس کر چڑیا سے کہا: "اے نادان چڑیا! یہ آگ اتنی بڑی اور خوفناک ہے کہ پہاڑ بھی جل جائیں، تیری چھوٹی سی چونچ کے ایک قطرے سے یہ آگ کیسے بجھے گی؟”
ننھی چڑیا نے فخر اور محبت بھرے لہجے میں تاریخی جواب دیا:
"مجھے معلوم ہے کہ میرے ایک قطرے سے یہ خوفناک آگ نہیں بجھے گی، لیکن جب قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مجھ سے پوچھے گا کہ جب میرا خلیل آگ میں ڈالا جا رہا تھا تو تم کس کے ساتھ تھیں؟ تو کم از کم میرا نام آگ لگانے والوں میں نہیں بلکہ آگ بجھانے اور سچائی کا ساتھ دینے والوں میں لکھا جائے گا!”
اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے نبی حضرت ابراہیمؑ کے لیے آگ کو ٹھنڈا اور سراپا سلامتی والا گلزار بنا دیا۔