پیارے بچو! ہزاروں سال پہلے کی بات ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکم فرمایا کہ وہ اپنی نیک بیوی حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنہا اور اپنے معصوم اور ننھے شیر خوار بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو مکہ کی ایک سنسان اور ویران وادی میں چھوڑ آئیں۔
اس زمانے میں مکہ مکرمہ میں نہ کوئی انسان بستا تھا، نہ کوئی مکان تھا، نہ کوئی درخت تھا اور نہ ہی پینے کے لیے پانی کا ایک قطرہ موجود تھا۔ چاروں طرف صرف جلتے ہوئے سرخ پہاڑ اور گرم ریت کے ٹیلے تھے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ کے حکم پر عمل کرتے ہوئے اپنی اہلیہ اور معصوم بچے کو وہاں اتارا، ایک مشکیزہ پانی اور چند کھجوریں ان کے پاس رکھیں اور واپسی کے لیے قدم بڑھائے۔
حضرت ہاجرہؓ نے گھبرا کر پوچھا: "اے ابراہیم! آپ ہمیں اس سنسان اور بے آب و گیاہ بیابان میں کس کے سہارے چھوڑ کر جا رہے ہیں؟” حضرت ابراہیمؑ خاموش رہے کیونکہ ان کا دل بھی بیٹے کے لیے تڑپ رہا تھا مگر وہ اللہ کا حکم پورا کر رہے تھے۔
حضرت ہاجرہؓ نے پھر پوچھا: "کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے؟”
حضرت ابراہیمؑ نے فرمایا: "ہاں!”
حضرت ہاجرہؓ نے کامل ایمان اور توکل کے ساتھ تاریخی جواب دیا: "اگر یہ میرے رب کا حکم ہے تو وہ ہمیں ہرگز ضائع نہیں ہونے دے گا!”
کچھ دنوں بعد مشکیزے کا پانی ختم ہو گیا اور کھجوریں بھی مک گئیں۔ شدید گرمی کی وجہ سے حضرت ہاجرہؓ کا دودھ خشک ہو گیا اور ننھے اسماعیلؑ پیاس کی شدت سے بلک بلک کر رونے لگے اور ریت پر اپنی ایڑیاں رگڑنے لگے۔
ماں کی ممتا اپنے تڑپتے ہوئے جگر گوشے کی پیاس نہ دیکھ سکی۔ وہ پانی کی تلاش میں دوڑ کر سامنے موجود "صفا” پہاڑی پر چڑھیں اور دور تک نگاہ دوڑائی کہ شاید کوئی قافلہ نظر آ جائے، لیکن کچھ نہ ملا۔ پھر وہ وادی میں دوڑتی ہوئی دوسری پہاڑی "مروہ” پر گئیں اور وہاں سے چاروں طرف دیکھا۔ وہ پانی کی امید میں صفا اور مروہ کے درمیان سات چکر لگاتی رہیں۔
جب وہ ساتویں چکر پر مروہ پر پہنچیں تو انہیں ایک غیبی آواز سنائی دی۔ وہ دوڑتی ہوئی اپنے معصوم بچے کی طرف آئیں۔ وہاں انہوں نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت جبرائیل علیہ السلام نے اپنے پر سے زمین پر ٹھوکر ماری، اور جہاں ننھے اسماعیلؑ پیاس سے اپنی ایڑیاں رگڑ رہے تھے، وہاں سے ریت کے سینے کو چیرتا ہوا میٹھے اور شفاف پانی کا ایک تیز چشمہ ابل پڑا تھا!
حضرت ہاجرہؓ نے خوشی سے گھبرا کر پانی کے گرد مٹی کی منڈیر بنانا شروع کی اور فرمانے لگیں: "زَم زَم، زَم زَم!” (یعنی اے پانی رک جا، ٹھہر جا)۔
حضرت ہاجرہؓ نے خود بھی سیر ہو کر پیا اور اپنے پیارے بچے کو بھی پلایا۔ یہ وہی مقدس "آبِ زم زم” ہے جو آج چار ہزار سال گزرنے کے بعد بھی دنیا بھر کے کروڑوں مسلمانوں کو روزانہ سیراب کر رہا ہے اور کبھی ختم نہیں ہوا۔