معارک و فتوحاتِ خلافت راشدہ

معرکہ نہروان (۳۸ ہجری)

« ۹ صفر ۳۸ ہجری / ۱۷ جولائی ۶۵۸ء »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

تاریخی پس منظر اور فتنۂ خوارج کا ظہور

معرکہ نہروان اسلامی تاریخ کا وہ المناک مگر ناگزیر معرکہ ہے جو خلافتِ راشدہ کے دورِ مسعود میں فتنۂ خوارج کے استیصال کے لیے لڑا گیا۔ جنگِ صفین کے خاتمے پر جب سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اور سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے مابین خونریزی روکنے کے لیے ‘تحکیم’ (ثالثی) کا فیصلہ ہوا، تو لشکرِ خلافت میں سے ایک سخت گیر، جذباتی اور کج فہم ٹولہ علیحدہ ہو گیا۔ اس گروہ نے ‘لا حکم الا اللہ’ (اللہ کے سوا کسی کی حکومت نہیں) کا گمراہ کن نعرہ بلند کیا اور امیر المؤمنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی تکفیر کی۔ یہ باغی ٹولہ تاریخ میں ‘خوارج’ کے نام سے جانا گیا، جو کوفہ کے قریب ‘حروراء’ اور بعد ازاں ‘نہروان’ کے مقام پر مجتمع ہوا۔ انہوں نے نہ صرف مسلمانوں کے خلاف ہتھیار اٹھائے بلکہ عام مسلمانوں کی تکفیر شروع کر دی اور جو ان کے نظریات سے متفق نہ ہوتا، اسے بے دردی سے شہید کر دیتے۔ ان کی دہشت گردی اس وقت انتہا کو پہنچ گئی جب انہوں نے جلیل القدر صحابی رسول سیدنا عبداللہ بن خباب بن الارت رضی اللہ عنہ اور ان کی حاملہ زوجہ مطہرہ کو انتہائی بے دردی سے ذبح کر دیا۔ اس ظلمِ عظیم کے بعد امیر المؤمنین کے لیے ان کی سرکوبی شرعاً و تزویراتی طور پر فرض ہو گئی۔

لشکرِ اسلام کی روانگی اور اتمامِ حجت

امیر المؤمنین سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ شام پر دوبارہ لشکر کشی کا ارادہ رکھتے تھے، لیکن خلافتِ راشدہ کے علاقوں میں خوارج کے بڑھتے ہوئے مظالم اور قتل و غارت گری کے باعث صحابۂ کرام نے عرض کیا کہ پہلے اس اندرونی فتنے کا قلع قمع کیا جائے تاکہ کوفہ اور بصرہ کے پیچھے رہ جانے والے خاندان محفوظ رہ سکیں۔ امیر المؤمنین نے اس رائے کو قبول کیا اور لشکر کو نہروان کی طرف موڑ دیا۔ میدانِ جنگ میں پہنچ کر امیر المؤمنین نے روایتی عجلت پسندی کے بجائے انتہائی صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا اور اتمامِ حجت کے لیے سفارت کاری کا آغاز کیا۔ آپ نے سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ اور سیدنا قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کو خوارج کے پاس نصیحت کے لیے بھیجا۔ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے امان کا سفید جھنڈا نصب کیا اور بلند آواز سے پکارا: ‘جو شخص اس جھنڈے کے نیچے آ جائے اسے امان ہے، جو کوفہ یا مدائن لوٹ جائے اسے امان ہے، اور جو تم میں سے خونریزی سے الگ رہے اسے امان ہے، ہمیں تم سے قتال کی ضرورت نہیں بجز ان کے جنہوں نے ہمارے بھائیوں کو قتل کیا ہے۔’ اس حکیمانہ اور رحمدلانہ اقدام کے نتیجے میں خوارج کے لشکر میں پھوٹ پڑ گئی؛ تقریباً آدھا لشکر تائب ہو کر الگ ہو گیا یا سیدنا علیؓ کے ساتھ مل گیا، لیکن تقریباً ۴,۰۰۰ سخت گیر انتہا پسند جنگ پر بضد رہے۔

معرکہ کا آغاز اور عسکری صف بندی

خوارج کے امیر عبداللہ بن وہب الراسبی نے اتمامِ حجت کی تمام کوششوں کو ٹھکرا دیا اور اپنے متبعین کو جنت کی بشارتیں دے کر جنگ پر اکسایا۔ امیر المؤمنین نے اپنے لشکر کی صف بندی نہایت مہارت سے کی؛ میمنہ (دائیں بازو) پر حجر بن عدی، میسرہ (بائیں بازو) پر شبث بن ربعی، اور قلبِ لشکر پر خود امیر المؤمنین جلوہ افروز ہوئے۔ سواروں کو آگے رکھا گیا اور تیر اندازوں کو ان کے پیچھے ڈھال بنا کر کھڑا کیا گیا۔ امیر المؤمنین نے اپنے لشکریوں کو سخت تاکید کی کہ جب تک خوارج حملہ نہ کریں، پہل نہ کی جائے۔ خوارج نے اپنے روایتی جنون کے ساتھ ‘الرواح الرواح إلى الجنة’ (جنت کی طرف چلو) کا نعرہ لگایا اور لشکرِ اسلام پر ٹوٹ پڑے۔ ان کا حملہ انتہائی شدید تھا لیکن لشکرِ اسلام نے فولادی چٹان کی طرح ان کے وار روکے۔ امیر المؤمنین نے سواروں کو پینترا بدل کر پشت سے حملہ کرنے کا حکم دیا اور تیر اندازوں نے ان پر تیروں کی بارش کر دی۔ چند ہی لمحوں میں خوارج کا گھیرا تنگ کر دیا گیا۔

فتنۂ خوارج کا عسکری خاتمہ اور الہیٰ علامات

نہروان کی یہ جنگ کوئی طویل معرکہ ثابت نہ ہوئی بلکہ امیر المؤمنین کی اعلیٰ عسکری حکمتِ عملی کے باعث چند ہی گھنٹوں میں خوارج کا لشکرِ جرار تتر بتر ہو گیا۔ خوارج کے بڑے بڑے سرغنہ بشمول عبداللہ بن وہب الراسبی اور حرقوص بن زہیر (ذو الثدیہ کا ساتھی) مارے گئے۔ معرکہ کے اختتام پر امیر المؤمنین نے میدانِ جنگ کا دورہ کیا اور ایک خاص لاش کی تلاش کا حکم دیا۔ جب ایک ہاتھ کٹے ہوئے اور چھاتی پر عورت کے پستان کی مانند گوشت کے لوتھڑے والے شخص (ذو الثدیہ) کی لاش ملی، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے باآوازِ بلند ‘اللہ اکبر’ کہا اور بارگاہِ الٰہی میں سجدۂ شکر بجا لائے۔ یہ وہی شخص تھا جس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے پیشگوئی فرمائی تھی کہ ‘امت میں اختلاف کے وقت ایک فتنہ باز گروہ نکلے گا، ان کو وہ جماعت قتل کرے گی جو حق کے سب سے زیادہ قریب ہوگی، اور ان کی نشانی یہ ذو الثدیہ ہوگا’۔ اس علامت کے ظاہر ہونے سے لشکرِ اسلام کے شکوک و شبہات دور ہو گئے اور یہ ثابت ہو گیا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ حق پر تھے۔

معرکہ کے تزویراتی نتائج اور ایمانی اسباق

معرکہ نہروان نے سلطنتِ اسلامیہ کو ایک بہت بڑے داخلی نظریاتی اور عسکری خطرے سے بچا لیا۔ اگر اس وقت خوارج کا قلع قمع نہ کیا جاتا تو اسلامی نظامِ خلافت اندرونی طور پر کھوکھلا ہو جاتا۔ عسکری اعتبار سے یہ معرکہ ایک معجزہ تھا کیونکہ لشکرِ اسلام کے صرف ۹ افراد شہید ہوئے جبکہ دشمن کے تقریباً تمام جنگجو مارے گئے۔ تاہم، اس معرکہ کا ایک پہلو یہ بھی رہا کہ اگرچہ عسکری طور پر خوارج کو کچل دیا گیا، لیکن ان کی فکری باقیات خفیہ طور پر موجود رہیں، جن کے زیرِ اثر بعد میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو عبدالرحمن بن ملجم خارجی نے کوفہ کی مسجد میں زہر آلود تلوار سے وار کر کے شہید کیا۔ ایمانی نقطۂ نظر سے یہ معرکہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ دین میں غلو (انتہا پسندی)، کج فہمی، اور راسخ علم کے بغیر قرآن کی من مانی تاویلات گمراہی کا سب سے بڑا سبب بنتی ہیں۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • ابن جریر الطبری (تاريخ الرسل والملوك، جلد ۵)
  • ابن کثیر (البداية والنهاية، جلد ۷)
  • ابن الاثیر (الكامل في التاريخ، جلد ۳)
  • صحیح البخاری وصحیح مسلم (کتاب الفتن، احادیثِ خوارج)
  • بلاذری (أنساب الأشراف)

قرآن مجید میں تذکرہ و حوالہ جات

📖 متعلقہ سورتیں و آیات:

سورۃ الحجرات (آیت ۹ - باغی گروہ سے قتال کا حکم) اور صحیحین میں وارد متواتر احادیثِ نبویہ (فتنۂ خوارج کی پیشگوئی)

غزوہ و معرکہ سے متعلق احادیثِ نبوی ﷺ

یہ احادیث ہمارے مستند ذخیرہ کتب ستہ سے تلاش کر کے منسلک کی گئی ہیں:

🏷️ متعلقہ موضوعات و سرچ ٹیگز (Trending Topics):
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

معرکہ نہروان (۳۸ ہجری)

تاریخ و سن ہجری: ۹ صفر ۳۸ ہجری / ۱۷ جولائی ۶۵۸ء
میدانِ جنگ: نہروان (مقام نہروان، نزدیک بغداد، عراق)
لشکرِ اسلام: تقریباً ۱۴,۰۰۰ سے ۲۰,۰۰۰ مجاہدین (لشکرِ خلافتِ راشدہ)
لشکرِ اعداء: تقریباً ۴,۰۰۰ مسلح باغی (خوارج کا لشکر)
نتیجہ: امیر المؤمنین سیدنا علیؓ کی فیصلہ کن اور تزویراتی فتح، خوارج کے فتنہ کا عبرتناک انجام
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com