تاریخی پس منظر اور اسباب
سرورِ کائنات حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے وصالِ ظاہری کے فوراً بعد، جزیرۃ العرب میں فتنہ ارتداد نے سر اٹھایا۔ بہت سے قبائل اسلام سے پھر گئے اور نبوت کے جھوٹے دعویدار کھڑے ہو گئے۔ ان جھوٹے دعویداروں میں سب سے زیادہ طاقتور اور خطرناک فتنہ نجد کے علاقے یمامہ میں بنو حنیفہ کے مسیلمہ کذاب کا تھا۔ اس نے نہ صرف جھوٹی نبوت کا دعویٰ کیا بلکہ ایک بہت بڑا عسکری لشکر بھی تیار کر لیا۔ خلیفہ اول سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس فتنے کے استیصال کے لیے غیر متزلزل عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے شروع میں سیدنا عکرمہ بن ابی جہل اور سیدنا شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہما کی قیادت میں دستے بھیجے، لیکن مسیلمہ کے لشکریوں کی تعداد اور جنگی جنون کی وجہ سے خاطر خواہ کامیابی نہ ہو سکی۔ بالآخر، خلیفہ راشد نے اسلام کے مایہ ناز سپہ سالار، سیف اللہ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو اس مہم کا جنرل مقرر کیا اور مدینہ منورہ سے انصار و مہاجرین کا ایک زبردست لشکر ان کی قیادت میں روانہ کیا۔
لشکروں کی روانگی اور صف بندی
سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے یمامہ کے راستے میں پسپا شدہ مسلم دستوں کو اپنے ساتھ ملایا اور لشکر کی نئے سرے سے عسکری تنظیم نو کی۔ انہوں نے مجاہدین کو مختلف قبائلی اور تنظیمی گروہوں میں تقسیم کیا تاکہ ہر گروہ اپنی غیرت اور ایمانی شجاعت کا مظاہرہ کر سکے۔ لشکر میں انصار کا علم سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، جبکہ مہاجرین کا علم سیدنا سالم مولیٰ ابی حذیفہ رضی اللہ عنہ سنبھالے ہوئے تھے۔ دوسری طرف، مسیلمہ کذاب کا چالیس ہزار کا لشکرِ جرار فتنہ و سرکشی کی علامت بن کر میدانِ عقرباء میں صف آرا تھا۔ ان کا نعرہ قبائلی عصبیت پر مبنی تھا، اور وہ اندھی تقلید میں مسیلمہ کے گرد اکٹھے ہوئے تھے۔
معرکہ کے تفصیلی احوال و شجاعتِ صحابہ
جب معرکہ شروع ہوا تو ابتدائی حملہ اتنا شدید تھا کہ مسلمانوں کے پاؤں اکھڑنے لگے اور دشمن کا لشکر سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے خیمے تک پہنچ گیا۔ اس نازک موڑ پر، صحابہ کرام کے ایمان کا بے مثال امتحان تھا۔ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اپنی تزویراتی مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے لشکر کو پکارا اور مہاجرین، انصار اور دیگر قبائل کو الگ الگ دستوں میں تقسیم کیا تاکہ بزدلی کی تہمت سے بچنے کا مسابقتی جذبہ پیدا ہو۔ اس تدبیر نے معجزانہ کام کیا۔ صحابہ کرام نے جرات کی وہ داستانیں رقم کیں جن کی مثال تاریخِ انسانی میں نہیں ملتی۔ سیدنا براء بن مالک رضی اللہ عنہ کی بہادری دیدنی تھی، انہوں نے مجاہدین سے کہا کہ مجھے ڈھال پر بٹھا کر دشمن کے قلعے کے اندر پھینک دو۔ چنانچہ انہیں اندر پھینکا گیا، انہوں نے تن تنہا لڑتے ہوئے قلعے کا دروازہ کھول دیا جسے تاریخ میں ‘حدیقۃ الموت’ (موت کا باغ) کہا جاتا ہے۔ مجاہدین قلعے کے اندر داخل ہو گئے اور گھمسان کی جنگ شروع ہوئی۔ اسی ہنگامے میں سیدنا وحشی بن حرب رضی اللہ عنہ نے اپنا وہی تاریخی حربہ (چھوٹا نیزہ) پھینکا جس سے انہوں نے زمانہ جاہلیت میں سید الشہداء حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو شہید کیا تھا، اور وہ سیدھا مسیلمہ کذاب کو لگا، اور ساتھ ہی سیدنا ابو دجانہ رضی اللہ عنہ نے اپنی تلوار سے اس کا کام تمام کر دیا۔ جھوٹے پیغمبر کی ہلاکت کے ساتھ ہی دشمن کے حوصلے پست ہو گئے اور وہ کثرت سے مارے گئے۔
شہدائے اسلام اور فتح کے تزویراتی اثرات
جنگِ یمامہ میں مسلمانوں کو فتحِ مبین حاصل ہوئی لیکن اس کی قیمت بہت بھاری تھی۔ تقریباً بارہ سو (1,200) جلیل القدر صحابہ کرام اور تابعین شہید ہوئے۔ ان شہداء میں سیدنا عمر فاروق کے بھائی سیدنا زید بن الخطاب، سیدنا ثابت بن قیس، سیدنا ابو دجانہ، اور سیدنا سالم مولیٰ ابی حذیفہ رضی اللہ عنہم جیسے جلیل القدر صحابہ شامل تھے۔ سب سے اہم بات یہ تھی کہ اس معرکے میں کثیر تعداد میں حفاظِ قرآن شہید ہوئے۔ اسی نقصان کے پیشِ نظر، سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے خلیفہ اول سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو قرآن مجید کو ایک کتابی شکل میں جمع کرنے کا مشورہ دیا، جو کہ تاریخِ اسلام کا ایک عظیم ترین کارنامہ بنا۔ تزویراتی طور پر، اس فتح نے فتنہ ارتداد کی کمر توڑ دی اور پورے جزیرۃ العرب کو خلافتِ راشدہ کے تحت یکجا کر دیا۔
قرآنی ارشادات اور ایمانی اسباق
مفسرینِ عظام (جیسے امام ابن کثیر) کے مطابق، سورۃ الفتح کی آیت نمبر 16 میں جس ‘سخت جنگجو قوم’ (اُولی بَأسٍ شَدِیدٍ) سے قتال کا ذکر ہے، اس سے مراد بنو حنیفہ اور مسیلمہ کذاب کا لشکر ہے۔ یہ معرکہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ایمان کا جذبہ دنیا کی ہر مادی طاقت اور عددی برتری پر غالب آتا ہے۔ صحابہ کرام کا عقیدہ ختمِ نبوت کے تحفظ کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنا رہتی دنیا تک کے مسلمانوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ اس جنگ نے ثابت کیا کہ حق کے راستے میں تنظیمی نظم و ضبط اور مخلصانہ قیادت (جیسے سیدنا خالد بن ولید کی قیادت) کامیابی کی کلید ہیں۔
مستند تاریخی حوالہ جات
- ابن اسحاق (السيرة النبوية)
- ابن ہشام (السيرة النبوية، جلد چہارم)
- ابن کثیر (البداية والنهاية، ذکر حوادث سنہ 11 و 12 ہجری)
- الطبری (تاريخ الرسل والملوك، ذکر خلافت ابوبکر صدیق)
- ابن سعد (الطبقات الکبریٰ، طبقات البدريين والاصحاب)
قرآن مجید میں تذکرہ و حوالہ جات
📖 متعلقہ سورتیں و آیات:
سورۃ الفتح، آیت 16 (اُولی بَأسٍ شَدِیدٍ - سخت جنگجو قوم کی تفسیری تعبیر جس سے مراد ائمہ مفسرین نے بنو حنیفہ لی ہے)
غزوہ و معرکہ سے متعلق احادیثِ نبوی ﷺ
یہ احادیث ہمارے مستند ذخیرہ کتب ستہ سے تلاش کر کے منسلک کی گئی ہیں:
