← Back to Hadiths
Hadith #2422 — SAHIH BUKHARI
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنهما ـ يَقُولُ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَيْلاً قِبَلَ نَجْدٍ، فَجَاءَتْ بِرَجُلٍ مِنْ بَنِي حَنِيفَةَ يُقَالُ لَهُ ثُمَامَةُ بْنُ أُثَالٍ سَيِّدُ أَهْلِ الْيَمَامَةِ، فَرَبَطُوهُ بِسَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ، فَخَرَجَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ ". قَالَ عِنْدِي يَا مُحَمَّدُ خَيْرٌ. فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ " أَطْلِقُوا ثُمَامَةَ ".
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے سعید بن ابی سعید نے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے چند سواروں کا ایک لشکر نجد کی طرف بھیجا۔ یہ لوگ بنو حنیفہ کے ایک شخص کو جس کا نام ثمامہ بن اثال تھا اور جو اہل یمامہ کا سردار تھا، پکڑ لائے اور اسے مسجد نبوی کے ایک ستون میں باندھ دیا۔ پھر رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور آپ ﷺ نے پوچھا، ثمامہ! تو کس خیال میں ہے؟ انہوں نے کہا اے محمد ( ﷺ ) میں اچھا ہوں۔ پھر انہوں نے پوری حدیث ذکر کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا تھا کہ ثمامہ کو چھوڑ دو۔
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) sent horsemen to Najd and they arrested and brought a man called Thumama bin Uthal, the chief of Yamama, and they fastened him to one of the pillars of the Mosque. When Allah's Apostle came up to him; he asked, "What have you to say, O Thumama?" He replied, "I have good news, O Muhammad!" Abu Huraira narrated the whole narration which ended with the order of the Prophet "Release him
🔗 Chain of Narrators (سلسلۂ روایت)
Sahabi (صحابی)
➔
Tabi'i (تابعی)
➔
Narrator (راوی)
➔
Sahih bukhari
📝 Hadith Commentary & Tafseer (توضیح و تشریح)
اس حدیث کی تفسیر اور تشریح جلد ہی شامل کی جائے گی۔
