حضور اقدس <span class="quran-durood-saw saw">ﷺ کی حیاتِ مبارکہ تمام انسانی شعبوں کے لیے رہنمائی کا بحرِ بے کراں ہے۔ عفو و درگزر، عدل و مساوات، خاندانی شفقت اور مدنی ریاست کے قیام کے سنہری اسوۂ حسنہ کا بصیرت افروز مطالعہ۔
انسانی تاریخ میں ہزاروں فلسفی، مفکر، مصلح اور فاتح گزرے ہیں لیکن کسی ایک کی زندگی بھی انسانیت کے ہر طبقے اور ہر شعبۂ حیات کے لیے کامل اور ہمہ گیر رہنمائی فراہم نہیں کر سکی۔ صرف اور صرف سرورِ کائنات، فخرِ موجودات حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی مقدس اور درخشندہ حیاتِ مبارکہ ہے جو بادشاہ سے لے کر فقیر تک، سپہ سالار سے لے کر قاضی تک، تاجر سے لے کر معلم تک، اور والد و شوہر سے لے کر پڑوسی تک ہر انسان کو زندگی گزارنے کا بہترین نمونہ عطا فرماتی ہے۔
سورۃ الاحزاب: ۲۱
«لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا»
”یقیناً تمہارے لیے اللہ کے رسول (کی ذاتِ مبارکہ) میں بہترین نمونہ اور اسوۂ حسنہ ہے، ہر اس شخص کے لیے جو اللہ اور روزِ آخرت کی امید رکھتا ہو اور کثرت سے اللہ کو یاد کرتا ہو۔“
۱. کائنات کے لیے سراپا رحمت: رحمت للعالمین ﷺ
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں رسول اللہ ﷺ کے تشریف لانے کا اصل مقصد واضح فرمایا: «وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ» (اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے سراپا رحمت بنا کر ہی بھیجا ہے — الانبیاء: ۱۰۷)۔
یہ رحمت صرف انسانوں یا مسلمانوں تک محدود نہ تھی بلکہ کافروں، منافقوں، یہاں تک کہ چرند پرند اور بے زبان جانوروں کے لیے بھی عام تھی۔ جب طائف کے ظالموں نے آپ ﷺ کو پتھر مار مار کر لہولہان کر دیا اور پہاڑوں کا فرشتہ اجازت مانگنے آیا کہ بستی کو دونوں پہاڑوں کے درمیان پیس دیا جائے، تو سراپا رحمت نبی ﷺ نے فرمایا: ”نہیں! مجھے امید ہے کہ اللہ ان کی نسلوں سے ایسے لوگ پیدا فرمائے گا جو صرف ایک اللہ کی عبادت کریں گے۔“
۲. عفو و درگزر کی معراج: فتحِ مکہ کا بے مثال دن
جب سن ۸ ہجری میں رسول اللہ ﷺ دس ہزار قدوسیوں کے لشکر کے ساتھ فاتحانہ طور پر مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو کعبۃ اللہ کے صحن میں وہ قریش کے سردار گردنیں جھکائے لرز رہے تھے جنہوں نے ۲۱ سال تک رسول اللہ ﷺ کو گالیاں دی تھیں، راستوں میں کانٹے بچھائے تھے، شعب ابی طالب میں تین سال تک بھوک پیاس پر محصور رکھا تھا اور بالآخر وطن چھوڑنے پر مجبور کیا تھا۔
رسول اللہ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”اے قریش کے لوگو! تم جانتے ہو کہ آج میں تمہارے ساتھ کیا سلوک کرنے والا ہوں؟“ انہوں نے کہا: ”آپ شریف بھائی ہیں اور شریف بھائی کے بیٹے ہیں۔“ تب آپ ﷺ نے وہ تاریخی کلمات ارشاد فرمائے جس نے دنیا کو دنگ کر دیا:
سنن بیہقی: ۱۸۰۵۵ | سیرت ابن ہشام
«لاَ تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ، يَغْفِرُ اللَّهُ لَكُمْ وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ… اذْهَبُوا فَأَنْتُمُ الطُّلَقَاءُ»
”آج کے دن تم پر کوئی گرفت اور بدلہ نہیں، اللہ تمہیں معاف فرمائے اور وہ سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔ جاؤ! تم سب آزاد ہو۔“
۳. بے لاگ عدل و انصاف کی حکمرانی
اسلام کی مدنی ریاست میں قانون کی نظر میں امیر اور غریب، قریشی اور حبشی سب برابر تھے۔ جب قبیلہ بنو مخزوم کی ایک معزز خاتون چوری کے جرم میں پکڑی گئی اور حضرت اسامہ بن زیدؓ نے سفارش کرنا چاہی تو رسول اللہ ﷺ کا چہرہ مبارک سرخ ہو گیا اور آپ نے تاریخی خطبہ ارشاد فرمایا:
”تم سے پہلے کی قومیں اس لیے برباد ہوئیں کہ جب کوئی بڑا اور طاقتور جرم کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور جب کوئی کمزور و غریب جرم کرتا تو اس پر حد جاری کرتے۔ خدا کی قسم! اگر محمد کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو محمد اس کا ہاتھ بھی کاٹ دیتا۔“ (صحیح بخاری: ۳۴۷۵)
سیرتِ نبوی ﷺ سے ہماری زندگی کا سبق
- معاشرے میں نفرت، تعصب اور تشدد کے بجائے عفو، درگزر اور حسنِ اخلاق کو فروغ دیں۔
- گھریلو زندگی میں اپنے اہل و عیال، ماتحتوں اور بچوں کے ساتھ شفقت اور نرمی کا برتاؤ کریں۔
- ذاتی انتقام کے بجائے قانون کے احترام، دیانت اور سچائی کو اپنی پہچان بنائیں۔
