جہاد فی سبیل اللہ کا حقیقی مفہوم: دفاعِ انسانیت، شرائط اور جنگی اخلاقیات

قلم
شعبہ تحقیق و تصنیف، ادارہ اردو کوریج 11 ستمبر 2026ء
جہاد فی سبیل اللہ کا حقیقی مفہوم: دفاعِ انسانیت، شرائط اور جنگی اخلاقیات

اسلام میں جہاد دہشت گردی یا جارحیت کا نام نہیں بلکہ مظلوموں کی حمایت، عدل کے قیام اور دفاعِ انسانیت کی مقدس جدوجہد ہے۔ قرآن و سنت کی روشنی میں جہاد کے درجات اور اسلامی جنگی اخلاقیات کا جائزہ۔

مغرب کے اسلامو فوبیا اور جدید میڈیا کی فکری یلغار نے جس اسلامی اصطلاح کو سب سے زیادہ مسخ اور بدنام کرنے کی کوشش کی ہے، وہ "جہاد فی سبیل اللہ” ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں جہاد کا تصور دہشت گردی، لاقانونیت یا معصوم انسانوں کے قتلِ عام کی ہرگز اجازت نہیں دیتا، بلکہ یہ ظلم، بربریت اور فساد فی الارض کے خلاف حق، انصاف اور مظلوم انسانیت کے تحفظ کی سب سے منظم اور اخلاقی جدوجہد کا نام ہے۔

قرآنی اصولِ دفاع
سورۃ البقرہ: ۱۹۰

«وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا ۚ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ»

”اور اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں، لیکن زیادتی اور حد سے تجاوز نہ کرو، بے شک اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔“

۱. جہاد کا لغوی اور اصطلاحی مفہوم

عربی زبان میں لفظ "جہاد” کا مادہ "ج-ہ-د” ہے، جس کے معنی کسی نیک اور اعلیٰ مقصد کے حصول کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں اور توانائیاں صرف کر دینے کے ہیں۔ شریعتِ اسلامی میں جہاد صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں بلکہ اس کے کئی درجات ہیں:

  • جہاد بالنفس (سب سے بڑا جہاد): اپنے نفس کی بری خواہشات، تکبر، حرص اور گناہوں کے رجحان کے خلاف مسلسل لڑنا تاکہ روح پاکیزہ ہو سکے۔
  • جہاد بالعلم والقلم: قرآنی دلائل، حکمت اور فکری بصیرت کے ساتھ شکوک و شبہات کا علمی ازالہ کرنا اور حق کی تبلیغ کرنا۔ قرآن نے اسے ”جہاداً کبیراً“ (بڑا جہاد) قرار دیا ہے۔
  • جہاد بالمال: غریبوں، ناداروں، تعلیم اور دین کی سربلندی کے لیے اپنے حلال مال کو بے دریغ خرچ کرنا۔
  • جہاد بالسیف (قِتال فی سبیل اللہ): ظلم، جارحیت اور فتنے کے خاتمے کے لیے ایک باقاعدہ اسلامی ریاست اور حکومت کے زیرِ انتظام عسکری دفاع کرنا۔

۲. اسلام میں قتال کی شرائط اور دفاعی مقصد

اسلام تلوار کے زور پر کسی کو کلمہ پڑھوانے کا قائل نہیں، قرآن واضح طور پر فرماتا ہے: «لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ» (دین کے معاملے میں کوئی زبردستی نہیں)۔ نبی کریم ﷺ نے مکہ کے ۱۳ سال مظالم کو صبر سے برداشت کیا اور تلوار اسی وقت اٹھائی جب مدینہ منورہ پر مشرکین نے بار بار یلغار کر کے مسلمانوں کے وجود کو مٹانے کی کوشش کی۔

سورۃ الحج میں جہاد کی اجازت کی اصل علت بیان کی گئی: «أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا» (ان لوگوں کو لڑنے کی اجازت دی گئی جن پر ظلم کیا گیا کیونکہ وہ واقعی مظلوم ہیں — الحج: ۳۹)۔ لہٰذا اسلام میں قتال کا مقصد صرف اور صرف دفاع اور فتنہ و فساد کا قلع قمع کرنا ہے۔

۳. اسلامی جنگی اخلاقیات: انسانی تاریخ کا سب سے مہذب ضابطہ

چودہ صدیاں قبل رسول اللہ ﷺ اور خلفائے راشدین نے جنگ کے دوران جن اخلاقی حدود کا پابند بنایا، جدید دنیا کے جنیوا کنونشن بھی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتے:

وصیتِ نبوی ﷺ لشکر کو
صحیح مسلم: ۱۷۳۱ | سنن ابی داؤد: ۲۶۱۴

«اغْزُوا بِاسْمِ اللَّهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ… وَلاَ تَغْلُوا، وَلاَ تَغْدِرُوا، وَلاَ تُمَثِّلُوا، وَلاَ تَقْتُلُوا وَلِيدًا، وَلاَ امْرَأَةً، وَلاَ شَيْخًا فَنِيًّا»

”اللہ کے نام سے اور اللہ کی راہ میں چلو… خیانت نہ کرنا، بدعہدی اور دھوکہ نہ دینا، لاشوں کے مثلہ (بے حرمتی) نہ کرنا، اور کسی بچے، عورت، یا بوڑھے کو ہرگز قتل نہ کرنا۔“

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے لشکرِ شام کو روانہ کرتے ہوئے تاریخی ہدایات فرمائیں: ”کسی پھل دار درخت کو نہ کاٹنا، کھیتوں کو آگ نہ لگانا، جانوروں کو ضرورت کے سوا ذبح نہ کرنا، اور جو راہب اپنی عبادت گاہوں میں گوشہ نشین ہوں ان سے کوئی چھیڑ چھاڑ نہ کرنا۔“

۴. دہشت گردی اور جہاد کا بنیادی فرق

دہشت گردی کا مقصد خوف، لاقانونیت اور بے گناہوں کو نشانہ بنا کر تباہی پھیلانا ہوتا ہے، جبکہ جہاد کا مقصد قانون کی بالادستی، امن اور ظالم کے ہاتھ کو روکنا ہے۔ اسلام نجی گروہوں یا خود ساختہ تنظیموں کی طرف سے خود کش حملوں اور فتنہ انگیزی کو قطعاً قبول نہیں کرتا بلکہ اسے فساد فی الارض اور کبیرہ گناہ قرار دیتا ہے۔

خلاصۂ کلام و اصولی پیغامات

  • جہاد دین کا اہم فریضہ ہے جس کی اصل روح ظلم کے سامنے سر نہ جھکانا اور عدل کا بول بالا کرنا ہے۔
  • جنگ کے دوران بھی اسلام اخلاقیات، عدل اور معصوم انسانی جانوں کے تقدس کو ہر حال میں مقدم رکھتا ہے۔
  • دہشت گردی اور فتنہ پروری کا اسلامی جہاد سے دور کا بھی کوئی واسطہ نہیں ہے۔
🏛️

ادارہ اردو کوریج — شعبہ تحقیق، مطالعہ و افتاء

یہ مضمون قرآن مجید، صحاح ستہ کی احادیث نبویہ اور سلف صالحین کے مستند علمی ماخذات کی تفصیلی جانچ کے بعد شائع کیا گیا ہے۔ قارئین کسی بھی علمی یا فقہی مشورے کے لیے ہمارے شعبہ تحقیق سے رابطہ کر سکتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے