اسلام میں لڑکیوں کی تعلیم کی اہمیت: شریعت، تاریخ اور عصرِ حاضر کی روشنی میں

قلم
شعبہ تحقیق و تصنیف، ادارہ اردو کوریج 10 ستمبر 2026ء
اسلام میں لڑکیوں کی تعلیم کی اہمیت: شریعت، تاریخ اور عصرِ حاضر کی روشنی میں

اسلام وہ پہلا دین ہے جس نے تاریک جاہلیت میں بیٹیوں کو زندہ دفن کرنے کے بجائے انہیں علم و عزت کی معراج عطا فرمائی۔ قرآن و سنت اور تاریخ کے آئینے میں تعلیمِ نسواں کی اصل شرعی حیثیت کا علمی جائزہ۔

تعلیم ہر انسان کا بنیادی پیدائشی، انسانی اور شرعی حق ہے۔ لیکن جب ہم چودہ سو سال قبل کے تاریخ کے اوراق پلٹتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اسلام وہ پہلا دین ہے جس نے اس دورِ جاہلیت کی تاریکی کو چاک کیا جب بچیوں کو زندہ درگور کرنا فخر سمجھا جاتا تھا، اور انہیں نہ صرف زندہ رہنے کا وقار بخشا بلکہ علم، حکمت اور اجتہاد کا تاج پہنا کر معاشرے کی فکری قیادت پر فائز کیا۔

فرمانِ باری تعالیٰ
سورۃ المجادلہ: ۱۱

«يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ»

”اللہ تعالیٰ تم میں سے ان لوگوں کے درجات بلند فرماتا ہے جو ایمان لائے اور جنہیں علم کی دولت سے نوازا گیا، اور اللہ تمہارے تمام اعمال سے باخبر ہے۔“

۱. طلبِ علم کا حکم: مرد و زن کے لیے مساوی فریضہ

رسول اللہ ﷺ کا مشہور و معروف ارشاد گرامی ہے جسے امام ابن ماجہؒ نے روایت کیا:

فرمانِ رسول ﷺ
سنن ابن ماجہ: ۲۲۴ (صحیح)

«طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَىٰ كُلِّ مُسْلِمٍ»

”علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔“

عربی زبان و شریعت کے مسلمہ اصول کے مطابق لفظ "مسلم” جنس کے اعتبار سے عام ہے جو مرد اور عورت دونوں کو یکساں طور پر محیط ہے۔ ائمہ لغت اور مفسرینِ کرام نے اس بات پر مکمل اتفاق کیا ہے کہ جس طرح عبادات، نماز اور طہارت کا بنیادی علم حاصل کرنا مرد پر فرض ہے، بعینہٖ اسی طرح ہر مسلم خاتون پر بھی اپنی ضرورت کے احکام کا علم حاصل کرنا فرضِ عین ہے۔

۲. ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہؓ: اسلامی تاریخ کی عظیم ترین معلمہ

اسلام میں لڑکیوں کی تعلیم کا سب سے درخشندہ اور ناقابلِ فراموش نمونہ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی مبارک ذات ہے۔ آپ نہ صرف رسول اللہ ﷺ کے اقوال و افعال کی سب سے بڑی راویہ تھیں، بلکہ علم الفقہ، اصولِ شریعت، عربی شعر و ادب، انساب اور اس دور کی طب کی مایہ ناز ماہر تھیں۔

امام زہریؒ فرماتے ہیں: ”اگر تمام مردوں اور تمام امہات المومنین کا علم ایک پلڑے میں رکھا جائے اور سیدہ عائشہؓ کا علم دوسرے پلڑے میں رکھا جائے تو سیدہ عائشہ کا پلڑا بھاری ہوگا۔“ نیز صحابہ کرام کے جلیل القدر اکابر جب بھی کسی پیچیدہ فقہی مسئلے میں الجھ جاتے تو رہنمائی کے لیے حضرت عائشہ صدیقہؓ کے حجرہ مبارکہ کا رخ کرتے تھے۔

۳. تاریخِ اسلام میں خواتین کا علمی و تحقیقی کردار

اسلام کی پوری تاریخ عالمات، محدثات اور فقیہات کے روشن کارناموں سے جگمگا رہی ہے:

  • حضرت شفاء بنت عبد اللہؓ: جنہیں رسول اللہ ﷺ نے خود پڑھنا لکھنا اور کتابت سکھانے کے لیے مقرر فرمایا، اور بعد میں سیدنا عمر فاروقؓ نے انہیں مدینہ منورہ کے بازار کی نگرانی اور انتظام کی ذمہ داری سونپی۔
  • فاطمہ الفہریہ: نویں صدی عیسوی کی وہ عظیم مسلم خاتون جنہوں نے مراکش میں دنیا کی سب سے پہلی اور قدیم ترین یونیورسٹی جامعہ القرویین (University of al-Qarawiyyin) قائم کی، جو آج بھی تعلیم کا گہوارہ ہے۔
  • کریمہ المروزیہ اور شہدہ الکاتبۃ: جنہوں نے صحیح بخاری اور حدیث کے بڑے ذخائر کی تدریس کی اور ان کے حلقہ درس میں اس دور کے چوٹی کے مرد علماء و ائمہ زانوئے تلمذ طے کرتے تھے۔

۴. جدید دور میں لڑکیوں کی تعلیم کی ناگزیریت

ایک مشہور مقولہ ہے کہ: ”جب آپ ایک مرد کو تعلیم دیتے ہیں تو صرف ایک فرد کو تعلیم دیتے ہیں، لیکن جب آپ ایک لڑکی کو تعلیم دیتے ہیں تو ایک پورے خاندان اور نسل کو تعلیم دیتے ہیں۔“

ماں بچے کی پہلی اور سب سے بااثر درسگاہ ہوتی ہے۔ اگر ماں خود جاہل اور شعور سے عاری ہو تو وہ اپنے بچوں کو قرآن، عقیدہ، اخلاقیات اور جدید علوم کی بصیرت کیسے عطا کر سکتی ہے؟ اسلام لڑکیوں کو طب، نرسنگ، تدریس، انفارمیشن ٹیکنالوجی، زبان دانی اور سماجی علوم میں اعلیٰ مہارت حاصل کرنے کی مکمل ترغیب دیتا ہے تاکہ وہ اسلامی حدود اور حیا کے دائرے میں رہتے ہوئے امت کی خدمت کر سکیں۔

خلاصۂ کلام و اہم پیغامات

  • لڑکیوں کو دینی و عصری تعلیم سے محروم رکھنا اسلامی تعلیمات کے سراسر خلاف اور جہالت کا تسلسل ہے۔
  • اسلام نے خواتین کو صرف گھریلو ذمہ داریوں تک محدود نہیں رکھا بلکہ علم و تحقیق میں قیادت کے اعلیٰ ترین مناصب عطا کیے۔
  • بیٹیوں کی معیاری پرورش اور تعلیم پر رسول اللہ ﷺ نے جنت میں اپنی معیت اور دوزخ سے نجات کی خوشخبری سنائی ہے۔
🏛️

ادارہ اردو کوریج — شعبہ تحقیق، مطالعہ و افتاء

یہ مضمون قرآن مجید، صحاح ستہ کی احادیث نبویہ اور سلف صالحین کے مستند علمی ماخذات کی تفصیلی جانچ کے بعد شائع کیا گیا ہے۔ قارئین کسی بھی علمی یا فقہی مشورے کے لیے ہمارے شعبہ تحقیق سے رابطہ کر سکتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے