اسلام میں خواتین کے حقوق، کردار اور بااختیاری کا جامع نظریہ

قلم
شعبہ تحقیق و تصنیف، ادارہ اردو کوریج 10 ستمبر 2026ء
اسلام میں خواتین کے حقوق، کردار اور بااختیاری کا جامع نظریہ

مغربی نظریات کے برعکس اسلام نے چودہ صدیاں قبل عورت کو وراثت، مالی خود مختاری، رائے کی آزادی اور انسانی عزت کا وہ بلند مقام عطا کیا جس کی مثال انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ حقوقِ نسواں کا تقابلی و تحقیقی مطالعہ۔

حقوقِ نسواں اور خواتین کی بااختیاری (Women Empowerment) آج کے عہد کا سب سے گرما گرم موضوع ہے۔ مغربی دنیا میں بیسویں صدی تک عورت کو حقِ رائے دہی، جائیداد کی ملکیت اور شوہر کے برابر انسانی حقوق حاصل نہیں تھے۔ اس کے برعکس، دینِ فطرت اسلام نے چودہ سو سال قبل اس وقت عورت کو معاشی، قانونی، معاشرتی اور روحانی حقوق کا مکمل منشور عطا کیا جب دنیا کے متمدن ممالک بھی عورت کو روح سے خالی مخلوق یا شیطان کا آلہ کار قرار دیتے تھے۔

قرآنی مساوات و شرف
سورۃ البقرہ: ۲۲۸

«وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ ۚ وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ ۗ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ»

”اور عورتوں کے بھی مردوں پر ویسے ہی حقوق ہیں جیسے مردوں کے ان پر شریعت کے مطابق ہیں، البتہ مردوں کو (گھر کی سربراہی و کفالت میں) ان پر ایک درجہ حاصل ہے، اور اللہ زبردست حکمت والا ہے۔“

۱. روحانی و انسانی مقام: مرد اور عورت کا مساوی وقار

اسلام کی نگاہ میں انسانیت اور اجر و ثواب کے اعتبار سے عورت اور مرد کے درمیان کوئی امتیاز نہیں۔ قرآن مجید واضح الفاظ میں اعلان فرماتا ہے:

«مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً» (جو شخص بھی نیک عمل کرے، خواہ مرد ہو یا عورت، بشرطیکہ وہ مؤمن ہو، ہم اسے دنیا میں پاکیزہ زندگی عطا کریں گے اور آخرت میں ان کے بہترین اعمال کے بدلے اجر بخشیں گے — النحل: ۹۷)۔ اسلام میں نیکی، تقویٰ اور درجات کے حصول کے دروازے عورت کے لیے اتنے ہی کھلے ہیں جتنے مرد کے لیے۔

۲. مالی خود مختاری اور ملکیت کا حق (Financial Independence)

اسلام نے عورت کو جو سب سے بڑا معاشی تحفظ فراہم کیا وہ اس کی آزاد مالی حیثیت ہے۔

  • حقِ مہر: شادی کے وقت مرد عورت کو مہر کی صورت میں مالی تحفہ دیتا ہے جس پر صرف اور صرف عورت کا حق ہوتا ہے، اور باپ یا شوہر اس میں سے ایک پائی بھی اس کی مرضی کے بغیر نہیں لے سکتے۔
  • وراثت میں لازمی حصہ: اسلام نے ماں، بیٹی، بیوی اور بہن کے روپ میں عورت کا وراثت میں باقاعدہ شرعی حصہ مقرر کیا جسے کوئی منسوخ نہیں کر سکتا۔
  • تجارت اور کاروبار کی مکمل آزادی: عورت اپنی ذاتی جائیداد کی خود مختار مالک ہوتی ہے، اسے خرید و فروخت، سرمایہ کاری اور وصیت کا پورا حق حاصل ہے، جس کی زندہ مثال سیدہ خدیجۃ الکبریٰؓ کی عظیم الشان تجارت ہے۔
  • نان و نفقہ کی ذمہ داری سے استثنیٰ: عورت کی تمام کفالت (خواہ وہ بیٹی ہو، بیوی ہو یا ماں ہو) مرد کے ذمے ہے، اگر عورت ارب پتی بھی ہو تب بھی شوہر اس کی روٹی، کپڑے اور مکان کا ذمہ دار ہے۔

۳. خاندانی رشتے: ماں، بیٹی اور بیوی کا مقدس مقام

رسول اللہ ﷺ نے ماں کے قدموں تلے جنت قرار دی اور ایک صحابی کو حکم دیا کہ وہ جہاد کے بجائے اپنی بوڑھی ماں کی خدمت کرے۔ ایک دوسرے صحابی نے پوچھا: ”یا رسول اللہ! میرے حسنِ سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے؟ آپ ﷺ نے تین مرتبہ فرمایا: تیری ماں! اور چوتھی مرتبہ فرمایا: تیرا باپ۔“

فرمانِ مصطفیٰ ﷺ
سنن ترمذی: ۱۱۶۲ (حسن صحیح)

«خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لأَهْلِهِ وَأَنَا خَيْرُكُمْ لأَهْلِي»

”تم میں سب سے بہترین شخص وہ ہے جو اپنے اہل و عیال (بیوی اور گھر والوں) کے حق میں سب سے بہتر ہو، اور میں اپنے گھر والوں کے حق میں تم سب سے زیادہ بہترین ہوں۔“

۴. نکاح اور مرضی کی آزادی

اسلام نے بالغ لڑکی کی رضامندی اور اجازت کے بغیر نکاح کو باطل قرار دیا ہے۔ اگر کوئی باپ یا ولی اپنی بیٹی کو اس کی مرضی کے بغیر زبردستی بیاہ دے تو شریعت نے لڑکی کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ اس نکاح کو فسخ کرا سکتی ہے، جیسا کہ صحیح احادیث میں خنساء بنت خذام انصاریہؓ کا واقعہ مذکور ہے۔

خلاصۂ کلام

اسلام کا نظریہ بااختیاری عورت کو مرد کا مدمقابل یا دشمن بنانے کے بجائے اسے ایک پروقار، خودمختار اور قابل احترام رفیقِ حیات بناتا ہے۔ مغربی دنیا نے عورت پر کمائی اور معاشی بوجھ ڈال کر اسے دہرا استحصال کا شکار بنایا، جبکہ اسلام نے اس کا نان و نفقہ مرد پر واجب قرار دے کر اس کے تمام حقوق محفوظ فرما دیے۔

🏛️

ادارہ اردو کوریج — شعبہ تحقیق، مطالعہ و افتاء

یہ مضمون قرآن مجید، صحاح ستہ کی احادیث نبویہ اور سلف صالحین کے مستند علمی ماخذات کی تفصیلی جانچ کے بعد شائع کیا گیا ہے۔ قارئین کسی بھی علمی یا فقہی مشورے کے لیے ہمارے شعبہ تحقیق سے رابطہ کر سکتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے