اسلام میں موت اور برزخ کا سفر، روح کی حقیقت اور آخرت کی تیاری

قلم
شعبہ تحقیق و تصنیف، ادارہ اردو کوریج 10 ستمبر 2026ء
اسلام میں موت اور برزخ کا سفر، روح کی حقیقت اور آخرت کی تیاری

عالمِ برزخ کا تفصیلی سفر: نزع کا لمحہ، فرشتوں کی آمد، روح کا اخراج، قبر کے تین سوالات، عذاب و ثواب کی حقیقت اور اس طویل سفر کی کامیاب تیاری کے شرعی اصول۔

جب انسان کی سانسوں کا تسلسل ٹوٹتا ہے اور اس کی آنکھیں اس دنیاوی بستی سے بند ہوتی ہیں تو وہ ایک بالکل نئے، پر اسرار اور نادیدہ جہان میں داخل ہو جاتا ہے جسے شریعت کی اصطلاح میں "عالمِ برزخ” کہا جاتا ہے۔ برزخ دراصل دنیاوی زندگی اور قیامت کے حشر برپا ہونے کے درمیان کا درمیانی مرحلہ ہے جہاں انسان کا جسم تو مٹی میں مل جاتا ہے لیکن اس کی روح اپنے اچھے یا برے اعمال کے مطابق ثواب یا عذاب کے احساس میں قائم رہتی ہے۔

قرآنی وضاحت
سورۃ المؤمنون: ۹۹-۱۰۰

«حَتَّىٰ إِذَا جَاءَ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُونِ لَعَلِّي أَعْمَلُ صَالِحًا فِيمَا تَرَكْتُ ۚ كَلَّا ۚ إِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَائِلُهَا ۖ وَمِن وَرَائِهِم بَرْزَخٌ إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ»

”یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کو موت آ جاتی ہے تو کہتا ہے: اے میرے پروردگار! مجھے واپس لوٹا دے تاکہ جو کچھ میں چھوڑ آیا ہوں اس میں نیک عمل کروں، ہرگز نہیں! یہ تو محض ایک بات ہے جو وہ زبان سے کہتا ہے، اور ان سب کے پیچھے اس دن تک کے لیے ایک برزخ ہے جس دن وہ دوبارہ اٹھائے جائیں گے۔“

۱. جان کنی کا عالم اور روح کی پرواز

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ایک طویل اور مستند حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے موت کے وقت روح کے اخراج کی کیفیت بیان فرمائی:

جب کسی نیک مؤمن کی موت کا وقت آتا ہے تو آسمان سے نورانی چہروں والے فرشتے جنت کے کفن اور خوشبوئیں لے کر اترتے ہیں اور ملک الموت انتہائی نرمی اور پیار سے فرماتے ہیں: ”اے مطمئن روح! اپنے رب کی مغفرت اور خوشنودی کی طرف نکل آ۔“ پس اس کی روح اتنی آسانی سے نکلتی ہے جیسے مشکیزے کے منہ سے پانی کا قطرہ ڈھلک جاتا ہے۔ اس کے برعکس بدکار اور کافر کی روح کو اس کے جسم سے اس طرح کھینچ کر نکالا جاتا ہے جیسے خاردار جھاڑی کو گیلے اون کے کپڑے سے گھسیٹ کر نکالا جائے۔

۲. قبر کے تین انقلابی امتحانات اور سوالات

جب میت کو قبر میں رکھ دیا جاتا ہے اور اس کے عزیز و اقارب اسے دفن کر کے واپس لوٹ رہے ہوتے ہیں تو وہ ان کے جوتوں کی چاپ تک سنتا ہے۔ اس وقت دو ہیبت ناک فرشتے ”منکر اور نکیر“ حاضر ہوتے ہیں اور اسے بٹھا کر زندگی کا سب سے اہم ترین امتحان شروع کرتے ہیں:

  • مَنْ رَبُّكَ؟ (تیرا پروردگار کون ہے؟): مؤمن بلا جھجک جواب دیتا ہے: رَبِّيَ اللَّهُ (میرا رب اللہ ہے)۔
  • مَا دِينُكَ؟ (تیرا دین کیا ہے؟): مؤمن کہتا ہے: دِينِيَ الإِسْلاَمُ (میرا دین اسلام ہے)۔
  • مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي بُعِثَ فِيكُمْ؟ (اس مبارک ہستی کے بارے میں تو کیا کہتا تھا جو تمہارے درمیان بھیجے گئے تھے؟): مؤمن کہتا ہے: هُوَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ (وہ اللہ کے سچے رسول محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں)۔

اس کے بعد آسمان سے منادی ندا کرتا ہے کہ میرے بندے نے سچ کہا، اس کے لیے جنت کا بچھونا بچھا دو، اسے جنت کا لباس پہنا دو اور اس کی قبر میں جنت کی طرف ایک کھڑکی کھول دو جس سے جنت کی ٹھنڈی ہوائیں اور خوشبوئیں قیامت تک آتی رہیں گی۔

۳. برزخ کے طویل سفر کی تیاری کیسے کی جائے؟

قبر تنہائی اور تاریکی کی جگہ ہے، وہاں انسان کے ساتھ اس کی ڈگریاں، بینline-balance، عہدے اور بنگلے نہیں جاتے بلکہ صرف اس کے اعمال جاتے ہیں۔

صدقۂ جاریہ اور ذخیرۂ برزخ
صحیح مسلم: ۱۶۳۱

«إِذَا مَاتَ الإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهُ إِلاَّ مِنْ ثَلاَثَةٍ: إِلاَّ مِنْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ، أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ، أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ»

”جب انسان مر جاتا ہے تو اس کے اعمال کا سلسلہ ختم ہو جاتا ہے سوائے تین چیزوں کے: صدقۂ جاریہ، ایسا علم جس سے لوگ نفع اٹھائیں، یا ایسی نیک اولاد جو اس کے لیے دعائے مغفرت کرتی رہے۔“

برزخ کے سفر کے عملی رہنما اصول

  • نماز اور تلاوتِ قرآن خصوصاً سورۃ الملک کو روزانہ رات کو پڑھنے کا معمول بنائیں، کیونکہ یہ عذابِ قبر سے نجات کی ڈھال ہے۔
  • چغلی اور پیشاب کے چھینٹوں سے مکمل بچیں، کیونکہ احادیث میں بتایا گیا کہ عذاب قبر کا بڑا سبب یہ دو چیزیں بنتی ہیں۔
  • اپنی زندگی میں کوئی نہ کوئی ایسا صدقۂ جاریہ ضرور چھوڑیں جو آپ کی وفات کے بعد بھی آپ کے نامۂ اعمال میں نیکیوں کا اضافہ کرتا رہے۔
🏛️

ادارہ اردو کوریج — شعبہ تحقیق، مطالعہ و افتاء

یہ مضمون قرآن مجید، صحاح ستہ کی احادیث نبویہ اور سلف صالحین کے مستند علمی ماخذات کی تفصیلی جانچ کے بعد شائع کیا گیا ہے۔ قارئین کسی بھی علمی یا فقہی مشورے کے لیے ہمارے شعبہ تحقیق سے رابطہ کر سکتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے