انجیر میں موجود حل پذیر فائبر، فکن اینزائم اور مائیکرو نیوٹرینٹس بڑی آنت کے سوجے ہوئے مسوں کو ٹھنڈا کرتے ہیں، سخت پاخانے کو ملائم بنا کر خارج کرتے ہیں اور جوڑوں کی کمزوری مٹاتے ہیں۔
| غذائی جزو (Nutrient) | فی 100 گرام مقدار | روزانہ کی ضرورت (DV%) |
|---|---|---|
| توانائی (Calories – خشک) | 249 kcal | 12% |
| کاربوہائیڈریٹس (Carbohydrates) | 63.9 g | 21% |
| غذائی فائبر (Dietary Fiber) | 9.8 g | 39% |
| پروٹین (Protein) | 3.3 g | 7% |
| کیلشیم (Calcium) | 162 mg | 16% |
| آئرن (Iron) | 2.0 mg | 11% |
| پوٹاشیم (Potassium) | 680 mg | 19% |
| فکن انزائم (Ficin Enzyme) | فعال شکل | آنتوں کا شفا بخش ٹانک |
انجیر کا قرآنی و نبوی اعجاز اور نباتاتی شان
انجیر (Figs) جس کا سائنسی نام Ficus carica ہے، ان معدودے چند پھلوں میں شامل ہے جس کی قسم اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید کی سورۃ التین میں ‘وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ’ فرما کر ارشاد فرمائی ہے۔ احادیثِ نبویہ میں بھی انجیر کو جنت کا پھل اور نقرس (Gout) و بواسیر کے خاتمے کا قدرتی تریاق قرار دیا گیا ہے۔ جدید میڈیکل سائنس کے مطابق انجیر میں ایک خاص پروٹیولائٹک انزائم فکن (Ficin) پایا جاتا ہے جو بڑی آنت کے بیکٹیریا کے توازن کو بحال کرتا ہے اور پرانی سے پرانی سڑاند کو نکال باہر کرتا ہے۔
1. خونی اور بادی بواسیر (Piles) سے مکمل نجات
بواسیر کی بنیادی جڑ دائمی قبض اور مقعد کی وریدوں (Veins) پر غیر ضروری دباؤ ہے۔ انجیر آنتوں کی جلن کو ٹھنڈا کرتی ہے، پاخانے کو جیلی کی طرح نرم بناتی ہے اور مقعد کی سوجی ہوئی رگوں کی سوزش مٹا کر خون آنے کو فوری روکتی ہے۔
2. ہڈیوں کی کثافت اور آسٹیوپوروسس سے تحفظ
خشک انجیر پودوں سے حاصل ہونے والے کیلشیم کا امیر ترین ذریعہ ہے۔ صرف 4 خشک انجیر کھانے سے جسم کو گائے کے آدھے کپ دودھ کے برابر کیلشیم ملتا ہے۔ اس کے ساتھ پوٹاشیم اور میگنیشیم کی موجودگی پیشاب کے راستے کیلشیم کے ضیاع کو روکتی ہے۔
3. خون کی کمی اور جگر کی صفائی
انجیر میں نامیاتی آئرن وافر ہوتا ہے جو خون کے سرخ ذرات کے ہیموگلوبن کو فوری بڑھاتا ہے۔ جن خواتین کو ماہواری کی خرابی یا کمزوری ہو، انجیر ان کی طاقت بحال کرنے کا قدرتی ذریعہ ہے۔
4. جنسی و جسمانی کمزوری اور اعصابی تھکن کا علاج
انجیر میں موجود زنک، میگنیشیم اور اینٹی آکسیڈنٹس تولیدی صحت اور اسٹیمنا کو تقویت دیتے ہیں۔
طبی مزاج: تازی انجیر پہلے درجے میں گرم اور تر ہے، جبکہ خشک انجیر دوسرے درجے میں گرم اور پہلے درجے میں تر تاثیر رکھتی ہے۔
مصلح (Corrective Pair): گرم مزاج افراد کے لیے انجیر کا مصلح شربتِ انار، سرکہ، یا سونف ہے جس سے اس کے گرم اثرات مکمل طور پر معتدل ہو جاتے ہیں۔
استعمال کا درست وقت اور روزانہ کی متوازن مقدار
بواسیر اور قبض کے مریضوں کے لیے سب سے آزمودہ طریقہ یہ ہے کہ رات کو 3 سے 5 خشک انجیر صاف پانی میں مٹی کے برتن میں بھگو دیں۔ صبح نہار منہ وہ پانی پی لیں اور پھولی ہوئی انجیروں کو چبا کر کھا لیں۔ ایک صحت مند انسان روزانہ 3 سے 4 انجیر ناشتے کے وقت لے سکتا ہے۔
احتیاطی تدابیر: خشک انجیر میں قدرتی شکر زیادہ ہوتی ہے، اس لیے شوگر کے مریض روزانہ 1 سے 2 عدد سے زیادہ انجیر استعمال نہ کریں اور اپنی بلڈ شوگر کی مانیٹرنگ رکھیں۔ اسہال (پیچش) کی حالت میں انجیر کا استعمال وقتی طور پر روک دینا چاہیے۔
