شاعری ہب / غزل / محبت اب نہیں ہوگی یہ ایسا عہد ہے میرا

محبت اب نہیں ہوگی یہ ایسا عہد ہے میرا

Mohabbat Ab Nahin Hogi Yeh Aisa Ahad Hai Mera Ghazal Noshi Gilani

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

محبت اب نہیں ہوگی یہ ایسا عہد ہے میرا

کہ اب ہر بار دل کی موت پر ماتم نہیں ہوگا!

ترے دامن سے باندھی تھی جو ہم نے زندگی اپنی

اب اس دامن سے لپٹی کوئی بھی شبِ غم نہیں ہوگا!

ہمیں تو اپنے جذبوں نے جلایا ہے سرِ بازار

اب اس بازار میں کوئی وفا کا دم نہیں ہوگا!

نوشیؔ خود کو سنبھالا ہے بہت رو رو کے راتوں کو

اب اس دل پر کسی کے بھی ستم کا غم نہیں ہوگا!

Mohabbat Ab Nahin Hogi Yeh Aisa Ahad Hai Mera

Ke Ab Har Baar Dil Ki Maut Par Maatam Nahin Hoga!

Tere Daaman Se Baandhi Thi Jo Hum Ne Zindagi Apni

Ab Us Daaman Se Lipti Koi Bhi Shab-e-Gham Nahin Hoga!

Humein To Apne Jazbon Ne Jalaya Hai Sar-e-Bazaar

Ab Is Bazaar Mein Koi Wafa Ka Dam Nahin Hoga!

غزل Urdu
Comment
نوشی گیلانی
تعارفِ شاعر

نوشی گیلانی

🏛️ معاصر دور ⏳ 14 مارچ 1964 — -- 📍

نشاط گیلانی المعروف نوشیؔ گیلانی (پیدائش: 14 مارچ 1964ء، بہاولپور) پروین شاکر کے بعد اردو ادب کی سب سے مقبول، نازک خیال، حساس اور دردمند نسائی آواز ہیں۔ آپ نے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے اردو...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے