بوستان اسپیشل اکنامک زون سی پیک کی مغربی راہداری پر صوبہ بلوچستان کا پہلا بڑا باضابطہ صنعتی مرکز ہے۔ ضلع پشین کے قصبے بوستان میں واقع یہ زون کوئٹہ کینٹ اور انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے صرف 30 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ بلوچستان قدرت کی بے پناہ معدنی دولت (کرومائیٹ، تانبا، سنگِ مرمر، گرینائٹ) اور لذیذ ترین پھلوں (سیب، انگور، بادام، چیری، انار) کا گڑھ ہے، لیکن ماضی میں کوئی پروسیسنگ فیکٹری نہ ہونے کے سبب 40 فیصد پھل گل سڑ جاتے تھے۔ بوستان زون نے ان پھلوں کی پیکنگ، جوسز، ڈرائی فروٹ پروسیسنگ، اور حلال گوشت کی ایکسپورٹ فیکٹریوں کے لیے جدید انفراسٹرکچر مہیا کیا ہے۔ فیز-۱ کا 200 ایکڑ رقبہ مکمل طور پر تیار ہے جہاں سڑکیں، بجلی اور گیس پائپ لائنز بچھائی جا چکی ہیں۔
سی پیک اتھارٹی، پلاننگ کمیشن اور متعلقہ وزارت کے مصدقہ سرکاری ڈیٹا پر مبنی تکنیکی پیرامیٹرز:
| تکنیکی پیرامیٹر (Parameter) | سرکاری تفصیلات، گنجائش و مصدقہ ریکارڈ |
|---|---|
| کل کوریڈور رقبہ | 1,000 ایکڑ (فیز-1: 200 ایکڑ تیار، فیز-2: 800 ایکڑ توسیع) |
| بجلی و گیس انفراسٹرکچر | 132 kV بوستان گرڈ اسٹیشن اور 5 MMCFD قدرتی گیس سپلائی |
| ترجیحی صنعتی شعبے | فروٹ پیکجنگ، حلال میٹ پروسیسنگ، کرومائیٹ ریفائنری، فارماسیوٹیکل و پلاسٹک |
| چمن بارڈر ایکسیس | افغانستان و وسطی ایشیا کے ٹرانزٹ بارڈر چمن سے محض 80 کلومیٹر دور |
N-50 موٹروے، کوئٹہ-چمن ہائی وے اور کوئٹہ ریلوے ٹریک کے ذریعے ملکی و بین الاقوامی مارکیٹوں سے جڑا ہے۔
بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں ہزاروں باوقار ملازمتیں، زرعی نقصانات میں 80 فیصد کمی، اور خشک میوہ جات و منرلز کی بین الاقوامی برآمدات میں اضافہ۔
بلوچستان کے باغات کے سیب و انگور کی پروسیسنگ، حلال لائیو اسٹاک میٹ، معدنیات کی کٹنگ و پالشنگ اور ادویہ سازی کو خصوصی ترجیح حاصل ہے۔
جی ہاں، وفاقی قانون کے تحت 10 سالہ مکمل انکم ٹیکس چھوٹ اور درآمدی مشینری پر صفر ڈیوٹی کی قانونی سہولت دستیاب ہے۔