دھابیجی اسپیشل اکنامک زون سندھ میں سی پیک کے تحت قائم ہونے والا سب سے اسٹریٹجک صنعتی زون ہے۔ اس زون کا سب سے بڑا جغرافیائی برتری یہ ہے کہ یہ پاکستان کی سب سے بڑی کارگو بندرگاہ "پورٹ محمد بن قاسم" سے محض چند کلومیٹر اور کراچی جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے 35 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ 1,530 ایکڑ پر پھیلے اس زون کو حکومت سندھ نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) کے تحت بین الاقوامی ڈویلپرز کے ذریعے تعمیر کرنے کا معاہدہ کیا ہے۔ یہ زون ہیوی انجینئرنگ، اسٹیل مینوفیکچرنگ، آٹوموٹو، کیمیکلز اور لاجسٹکس کی صنعتوں کے لیے پرکشش ترین مقام ہے جہاں سے تیار شدہ مال سیدھا بحری جہازوں پر لاد کر برآمد کیا جا سکتا ہے۔
سی پیک اتھارٹی، پلاننگ کمیشن اور متعلقہ وزارت کے مصدقہ سرکاری ڈیٹا پر مبنی تکنیکی پیرامیٹرز:
| تکنیکی پیرامیٹر (Parameter) | سرکاری تفصیلات، گنجائش و مصدقہ ریکارڈ |
|---|---|
| کل رقبہ | 1,530 ایکڑ (فیز-1: 750 ایکڑ تجارتی و فیکٹری پلاٹس) |
| بجلی و گیس کنکشن | 220 kV گرڈ اسٹیشن اور 13.5 MMCFD سوئی سدرن گیس کنکشن |
| پانی کی فراہمی | دھابیجی پمپنگ اسٹیشن سے خصوصی واٹر کنڈیوٹ لائن |
| ریلوے فریٹ لنک | پاکستان ریلویز مین ٹریک سے براہ راست ڈیڈیکیٹڈ فریٹ سائیڈنگ |
| قانونی مراعات | 10 سالہ انکم ٹیکس چھوٹ اور پلانٹ و مشینری پر زیرو کسٹم ڈیوٹی |
نیشنل ہائی وے (N-5)، کراچی-حیدرآباد موٹروے (M-9)، پورٹ قاسم روڈ اور ریلوے فریٹ کوریڈور کے سنگم پر واقع ہے۔
پاکستان کے درآمدی بل (Import Bill) میں کمی کے لیے متبادل مصنوعات کی مقامی تیاری، کراچی اور اندرونِ سندھ کے نوجوانوں کے لیے 1 لاکھ نوکریاں، اور زرمبادلہ کا استحکام۔
پورٹ قاسم اور کراچی کے بالکل قریب ہونے کی وجہ سے را مٹیریل لانے اور تیار مال دنیا بھر میں برآمد کرنے کے لیے ملک کا سب سے سستا لاجسٹک روٹ ہے۔
جی ہاں! زون کے اندر ریلوے کا خصوصی کارگو ٹرمینل تعمیر کیا جا رہا ہے جہاں سے مال بردار گاڑیاں فیکٹری سے سیدھا سامان لے جا سکیں گی۔