گوادر تا ہوشاب موٹروے (M-8) سی پیک کی وہ پہلی تاریخی شاہراہ ہے جس نے گوادر بندرگاہ کو بند گلی سے نکال کر پاکستان کے قومی شاہراہوں کے نیٹ ورک سے جوڑا۔ ماضی میں گوادر سے تربت اور ہوشاب تک کوئی پکی سڑک موجود نہیں تھی، کچے راستوں، ریت کے ٹیلوں اور خشک ندی نالوں میں پھنس کر یہ معمولی فاصلہ طے کرنے میں 2 سے 3 دن لگ جاتے تھے اور بارش میں راستہ ہفتوں بند رہتا تھا۔ فرنٹیر ورکس آرگنائزیشن (FWO) کے بہادر انجینئرز اور سپاہیوں نے سخت ترین جغرافیائی اور موسمی حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے 193 کلومیٹر کا یہ شاندار ٹریک مکمل کیا۔ فروری 2016 میں فعال ہونے والی اس موٹروے نے گوادر سے تربت کا سفر صرف 1.5 گھنٹے اور ہوشاب کا سفر محض 2.5 گھنٹے میں تبدیل کر دیا۔
سی پیک اتھارٹی، پلاننگ کمیشن اور متعلقہ وزارت کے مصدقہ سرکاری ڈیٹا پر مبنی تکنیکی پیرامیٹرز:
| تکنیکی پیرامیٹر (Parameter) | سرکاری تفصیلات، گنجائش و مصدقہ ریکارڈ |
|---|---|
| سیکشن لمبائی | 193 کلومیٹر (گوادر تا تربت و ہوشاب مکمل سیکشن) |
| شاہراہ کی درجہ بندی | ایکسس کنٹرولڈ ہائی گریڈ ہائی وے / موٹروے گریڈ |
| پل اور کلورٹس | دریائے نہنگ اور کیچ کور پر 18 بڑے پل اور 400+ کلورٹس |
| مجموعی M-8 موٹروے | کل 892 کلومیٹر (گوادر-تربت-ہوشاب-پنجگور-بسیمہ-خضدار-شہید بے نظیر آباد تا رتو ڈیرو) |
| اسٹریٹجک اہمیت | گوادر پورٹ سے نکلنے والے تمام کارگو کنٹینرز کے لیے سب سے پہلا زمینی راستہ |
مشرق میں M-8 خضدار اور رتو ڈیرو (سندھ) سے مل کر انڈس ہائی وے اور M-5 سے ملتی ہے، جبکہ شمال میں بسیمہ کے راستے کوئٹہ سے منسلک ہوتی ہے۔
گوادر بندرگاہ سے ملکی تجارت کا عملی آغاز، مکران کے دور دراز دیہاتوں کو اسپتالوں اور تعلیمی اداروں تک رسائی، اور تربت کی مشہور کھجوروں کی ملکی و غیر ملکی مارکیٹوں تک ترسیل۔
پرانے کچے راستے پر لگنے والے 8 سے 10 گھنٹے کے مقابلے میں اب یہ سفر صرف ڈیڑھ (1.5) گھنٹے میں آسانی سے طے ہو جاتا ہے۔
جی ہاں، مکمل ہونے پر M-8 گوادر سے شروع ہو کر خضدار کے راستے سندھ کے شہر رتو ڈیرو (لاڑکانہ) تک براہ راست 892 کلومیٹر پر محیط ہے۔