🛣️ موٹرویز و ریل نیٹ ورک — انفرادی ریسرچ ڈوزیئر
● مکمل و فعال (Fully Operational)

شاہراہِ ریشم فیز-۲ (حویلیاں تا تھاکوٹ KKH-II موٹروے — 118 کلومیٹر)

Karakoram Highway Phase-II (Havelian-Thakot 118 KM Mountain Expressway)
$1.34 Billion (چائنا ایگزم بینک فنانسنگ) مجموعی تخمینہ لاگت و فنانسنگ
118 KM (حویلیاں تا مانسہرہ 4-لین موٹروے + مانسہرہ تا تھاکوٹ 2-لین کلاس ون ہائی وے) آپریشنل گنجائش / لمبائی / پیداوار
ہزارہ ڈویژن، خیبر پختونخوا (حویلیاں، ایبٹ آباد، مانسہرہ، شنکیاری، تھاکوٹ) جغرافیائی دائرہ کار و صوبہ
100% مصدقہ ریکارڈ سی پیک اتھارٹی / سرکاری ریکارڈ
شاہراہِ ریشم فیز-۲ (حویلیاں تا تھاکوٹ KKH-II موٹروے — 118 کلومیٹر)
📸 تصویری ریکارڈ: شاہراہ ریشم فیز-۲ کا دلفریب منظر: پرپیچ پہاڑوں کے سینے کو چیرتی ہوئی جدید سرنگیں اور بلند و بالا پل جو ہر موسم میں سفر کو محفوظ بناتے ہیں۔
Source: CPEC Authority / Project Photo Archive

📖 ایگزیکٹو خلاصہ و تاریخی اسٹریٹجک پس منظر

شاہراہ ریشم فیز-2 (حویلیاں تا تھاکوٹ) دنیا کے بلند ترین اور دشوار ترین پہاڑی سلسلوں میں تعمیر شدہ ایک حیرت انگیز انجینئرنگ شاہکار ہے۔ 118 کلومیٹر کے اس منصوبے میں 39 کلومیٹر طویل 4-لین موٹروے (حویلیاں تا مانسہرہ) اور 79 کلومیٹر طویل 2-لین ہائی گریڈ ایکسپریس وے (مانسہرہ تا تھاکوٹ) شامل ہے۔ پرانی کے کے ایچ پر برفباری، لینڈ سلائیڈنگ اور ایبٹ آباد کی تنگ بازاروں کے باعث حویلیاں سے تھاکوٹ تک 6 سے 7 گھنٹے لگتے تھے، جو اب کم ہو کر صرف 1 گھنٹہ 45 منٹ رہ گیا ہے۔

"شاہراہِ ریشم فیز-۲ (حویلیاں تا تھاکوٹ KKH-II موٹروے — 118 کلومیٹر) محض ایک ترقیاتی منصوبہ نہیں بلکہ پاکستان کے معاشی اور لاجسٹک مستقبل کو نئی بلندیوں تک لے جانے والا تاریخی سنگ میل ہے۔"

📊 مصدقہ تکنیکی کوائف، آلات و فنانشل ماڈل

سی پیک اتھارٹی، پلاننگ کمیشن اور متعلقہ وزارت کے مصدقہ سرکاری ڈیٹا پر مبنی تکنیکی پیرامیٹرز:

تکنیکی پیرامیٹر (Parameter) سرکاری تفصیلات، گنجائش و مصدقہ ریکارڈ
کل سرنگیں (Tunnels) 6 جدید ترین سرنگیں (بشمول ایبٹ آباد ٹنل اور مانسہرہ ٹنل)
پلوں کی تعداد 105 بلند و بالا پل (دریائے سندھ اور پہاڑی ندی نالوں پر کنکریٹ گرڈرز)
لینڈ سلائیڈنگ پروٹیکشن سٹیل نیٹ اور گن کریٹ اینکرنگ سے پہاڑوں کو مستقل مضبوط کیا گیا ہے

🗺️ جغرافیائی کنیکٹیویٹی و روٹس

جنوب میں ہزارہ موٹروے (M-15) اور اسلام آباد-پشاور موٹروے (M-1) سے منسلک ہے، جبکہ شمال میں سیدھی گلگت، ہنزہ اور خنجراب پاس پر چینی بارڈر تک رسائی فراہم کرتی ہے۔

💼 معاشی فوائد، روزگار و بچت

شمالی علاقہ جات میں سیاحت کا بے مثال عروج، گلگت بلتستان کے پھلوں اور خشک میوہ جات کی ملک بھر میں فوری ترسیل، اور پاک چین زمینی تجارت کے اخراجات میں کمی۔

❓ اکثر پوچھے جانے والے اہم سوالات (FAQs)

Q: کیا یہ راستہ سردیوں میں برفباری کے دوران کھلا رہتا ہے؟

جی ہاں، سرنگوں اور خصوصی سلائیڈنگ شیلٹرز کی وجہ سے پرانے خطرناک موڑوں کو ختم کر دیا گیا ہے جس سے یہ روٹ سال کے بارہ مہینے ٹریفک کے لیے کھلا رہتا ہے۔

🔗 موٹرویز و ریل نیٹ ورک کے دیگر اہم منصوبے

تمام منصوبے دیکھیں ←
سکھر تا ملتان موٹروے (M-5 موٹروے — 392 کلومیٹر 6-لین شاہکار)
مکمل و فعال (Fully Operational & Toll Active)

سکھر تا ملتان موٹروے (M-5 موٹروے — 392 کلومیٹر 6-لین شاہکار)

تفصیلات پڑھیں ←
پاکستان ریلویز مین لائن-1 اپ گریڈیشن (ML-1 کوریڈور — 1,872 کلومیٹر)
باضابطہ منظور شدہ و فریم ورک فائنل (Approved Mega Project)

پاکستان ریلویز مین لائن-1 اپ گریڈیشن (ML-1 کوریڈور — 1,872 کلومیٹر)

تفصیلات پڑھیں ←
لاہور اورنج لائن میٹرو ٹرین (پاکستان کی پہلی ڈرائیور لیس ماس ٹرانزٹ ریل)
مکمل و روزانہ کمرشل فعال (Active Mass Transit)

لاہور اورنج لائن میٹرو ٹرین (پاکستان کی پہلی ڈرائیور لیس ماس ٹرانزٹ ریل)

تفصیلات پڑھیں ←
ہکلہ تا ڈی آئی خان موٹروے (M-14 موٹروے — 292 کلومیٹر مغربی راہداری)
مکمل و فعال (Fully Operational & Toll Active)

ہکلہ تا ڈی آئی خان موٹروے (M-14 موٹروے — 292 کلومیٹر مغربی راہداری)

تفصیلات پڑھیں ←
پاک چین کراس بارڈر آپٹیکل فائبر کیبل (خنجراب تا راولپنڈی — 820 KM کوریڈور)
مکمل و تجارتی فعال (Active High-Speed Terrestrial Data Link)

پاک چین کراس بارڈر آپٹیکل فائبر کیبل (خنجراب تا راولپنڈی — 820 KM کوریڈور)

تفصیلات پڑھیں ←
ژوب تا کوئٹہ کوریڈور (N-50 ہائی وے اپ گریڈیشن — 331 KM ویسٹرن روٹ)
زیرِ تعمیر و مختلف سیکشنز مکمل (Under Construction & Phased Opening)

ژوب تا کوئٹہ کوریڈور (N-50 ہائی وے اپ گریڈیشن — 331 KM ویسٹرن روٹ)

تفصیلات پڑھیں ←
گوادر تا ہوشاب موٹروے (M-8 موٹروے — 193 KM مکران کوریڈور)
مکمل و فعال (Fully Operational & Heavy Freight Active)

گوادر تا ہوشاب موٹروے (M-8 موٹروے — 193 KM مکران کوریڈور)

تفصیلات پڑھیں ←
← واپس برائے موٹرویز و ریل نیٹ ورک سی پیک ماسٹر ریسرچ ہب پر جائیں