شاہراہ ریشم فیز-2 (حویلیاں تا تھاکوٹ) دنیا کے بلند ترین اور دشوار ترین پہاڑی سلسلوں میں تعمیر شدہ ایک حیرت انگیز انجینئرنگ شاہکار ہے۔ 118 کلومیٹر کے اس منصوبے میں 39 کلومیٹر طویل 4-لین موٹروے (حویلیاں تا مانسہرہ) اور 79 کلومیٹر طویل 2-لین ہائی گریڈ ایکسپریس وے (مانسہرہ تا تھاکوٹ) شامل ہے۔ پرانی کے کے ایچ پر برفباری، لینڈ سلائیڈنگ اور ایبٹ آباد کی تنگ بازاروں کے باعث حویلیاں سے تھاکوٹ تک 6 سے 7 گھنٹے لگتے تھے، جو اب کم ہو کر صرف 1 گھنٹہ 45 منٹ رہ گیا ہے۔
سی پیک اتھارٹی، پلاننگ کمیشن اور متعلقہ وزارت کے مصدقہ سرکاری ڈیٹا پر مبنی تکنیکی پیرامیٹرز:
| تکنیکی پیرامیٹر (Parameter) | سرکاری تفصیلات، گنجائش و مصدقہ ریکارڈ |
|---|---|
| کل سرنگیں (Tunnels) | 6 جدید ترین سرنگیں (بشمول ایبٹ آباد ٹنل اور مانسہرہ ٹنل) |
| پلوں کی تعداد | 105 بلند و بالا پل (دریائے سندھ اور پہاڑی ندی نالوں پر کنکریٹ گرڈرز) |
| لینڈ سلائیڈنگ پروٹیکشن | سٹیل نیٹ اور گن کریٹ اینکرنگ سے پہاڑوں کو مستقل مضبوط کیا گیا ہے |
جنوب میں ہزارہ موٹروے (M-15) اور اسلام آباد-پشاور موٹروے (M-1) سے منسلک ہے، جبکہ شمال میں سیدھی گلگت، ہنزہ اور خنجراب پاس پر چینی بارڈر تک رسائی فراہم کرتی ہے۔
شمالی علاقہ جات میں سیاحت کا بے مثال عروج، گلگت بلتستان کے پھلوں اور خشک میوہ جات کی ملک بھر میں فوری ترسیل، اور پاک چین زمینی تجارت کے اخراجات میں کمی۔
جی ہاں، سرنگوں اور خصوصی سلائیڈنگ شیلٹرز کی وجہ سے پرانے خطرناک موڑوں کو ختم کر دیا گیا ہے جس سے یہ روٹ سال کے بارہ مہینے ٹریفک کے لیے کھلا رہتا ہے۔