گوادر پورٹ دنیا کی چند گنتی کی قدرتی گہرے پانیوں والی بندرگاہوں (Warm-water Natural Deep Sea Port) میں سرفہرست ہے۔ آبنائے ہرمز کے دھانے پر خلیج فارس اور بحیرہ عرب کے سنگم پر واقع یہ بندرگاہ دنیا کے 40 فیصد خام تیل کے سمندری راستے کی چوکیداری کرتی ہے۔ چینی کمپنیوں نے فیز-1 میں 3 ملٹی پرپز برتھس (602 میٹر طویل کوئے وال) کو جدید گینٹری کرینز کے ساتھ مکمل آپریشنل کر دیا ہے۔ پورٹ سے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی کھاد، گندم، اور ایل این جی کی کامیابی سے ترسیل جاری ہے جس سے پورٹ کی لاجسٹک اہمیت عملی طور پر ثابت ہو چکی ہے۔
سی پیک اتھارٹی، پلاننگ کمیشن اور متعلقہ وزارت کے مصدقہ سرکاری ڈیٹا پر مبنی تکنیکی پیرامیٹرز:
| تکنیکی پیرامیٹر (Parameter) | سرکاری تفصیلات، گنجائش و مصدقہ ریکارڈ |
|---|---|
| برتھس کی تعداد | 3 ملٹی پرپز برتھس (602 میٹر لمبائی) مع 100 میٹر رو-رو برتھ |
| نیویگیشن چینل ڈرافٹ | 14.5 میٹر گہرائی (50,000 ٹن DWT جہازوں کے لیے مکمل محفوظ) |
| کنٹینر ہینڈلنگ کیپیسٹی | سالانہ 5 لاکھ TEUs کنٹینرز، مستقبل میں 40 کروڑ ٹن کارگو ہدف |
| کارگو ویئر ہاؤسز | 100,000 مربع میٹر کا جدید شیڈڈ و اوپن اسٹوریج رقبہ |
| توسیعی ماسٹر پلان | آئندہ مراحل میں برتھس کی تعداد کو 150 تک بڑھانے کا طویل مدتی خاکہ |
بندرگاہ ایسٹ بے ایکسپریس وے کے ذریعے قومی ہائی وے نیٹ ورک، اور مجوزہ گوادر تا کوئٹہ و مستونگ ریلوے لائن کے ذریعے بین الاقوامی راہداری سے منسلک ہوگی۔
چین کے مغربی علاقوں کے لیے مالاکا اسٹریٹ پر 10,000 کلومیٹر طویل انحصار کا خاتمہ، پاکستان کے لیے ٹرانزٹ فیس اور پورٹ ڈیوٹیز کی مد میں اربوں ڈالر کی آمدن، اور مقامی بلوچستان کے نوجوانوں کے لیے ہزاروں روزگار۔
گوادر پورٹ اتھارٹی (GPA) کے تحت 40 سالہ لیز کنٹریکٹ کے ذریعے پورٹ کے آپریشنز چائنا اوورسیز پورٹ ہولڈنگ کمپنی (COPHC) چلا رہی ہے۔
14.5 میٹر گہرے ڈرافٹ کی بدولت 50,000 ٹن ڈیڈ ویٹ (DWT) تک کے بڑے بلک کیریئرز اور کنٹینر جہاز مکمل تحفظ کے ساتھ لنگر انداز ہو سکتے ہیں۔