📜 تاریخ، شالکوٹ اور ۱۹۳۵ء کا تباہ کن زلزلہ — جامع جائزہ و تجزیہ
مستند ڈیٹا شیٹکوئٹہ کی تاریخ صدیوں پرانی ہے جسے پشتو زبان میں "شالکوٹ" (کوٹ یعنی قلعہ نما وادی) کہا جاتا تھا۔ ۱۸۷۶ء میں برطانوی سیاسی ایجنٹ سر رابرٹ سینڈیمن نے خانِ قلات میر خداداد خان کے ساتھ معاہدہ کر کے یہاں برطانوی چھاؤنی کی بنیاد رکھی اور کوئٹہ کو برطانوی ہند کی تزویراتی مغربی سرحد کا دفاعی قلعہ بنایا۔ ۳۱ مئی ۱۹۳۵ء کو علی الصبح پونے تین بجے کوئٹہ میں ۷.۷ شدت کا ہولناک زلزلہ آیا جس نے محض ۳۰ سیکنڈ میں پورے شہر کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا اور ۳۰ ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہوئے۔ اس سانحے کے بعد جدید کوئٹہ کو زلزلہ پروف گارڈری، لکڑی اور مخصوص اونچائی کے قوانین کے تحت دوبارہ تعمیر کیا گیا جس سے اسے نیا روپ ملا۔ قیامِ پاکستان کے وقت قائداعظم محمد علی جناح نے کوئٹہ اور زیارت کو اپنی آخری رہائش گاہ کے طور پر منتخب کیا۔
