شاعری ہب / غزل / دل کے صحرا میں کوئی دیا جلا کر دیکھو

دل کے صحرا میں کوئی دیا جلا کر دیکھو

Dil ke Sahra mein Koi Diya Jala Kar Dekho Majeed

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

دل کے صحرا میں کوئی دیا جلا کر دیکھو

اور تنہائی کے سناٹے میں کلام سن کر دیکھو!

ہم نے تو لٹایا ہے فکری موتیوں کا خزانہ

اب خود کو اس کائناتی سچائی کا آئینہ بنا کر دیکھو!

امجدؔ شاعری اور وقت کا یہ حسیں سنگم

جسے اپنے دل کے گوشے میں سجا کر دیکھو!

Dil Ke Sehra Mein Koi Diya Jala Kar Dekho

Aur Tanhaayi Ke Sannaate Mein Kalaam Sun Kar Dekho!

Hum Ne To Lutaya Hai Fikri Motiyon Ka Khazana

Ab Khud Ko Is Kaayenaati Sacchayi Ka Aayina Bana Kar Dekho!

Amjad Shaaeri Aur Waqt Ka Yeh Haseen Sangam

Jise Apne Dil Ke Goshe Mein Saja Kar Dekho!

غزل Urdu
Comment
مجید امجد
تعارفِ شاعر

مجید امجد

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 29 جون 1914 — 11 مئی 1974 📍

عبدالمجید المعروف مجیدؔ امجد (29 جون 1914ء – 11 مئی 1974ء) بیسویں صدی کے سب سے عظیم، منفرد اور گہرے فلسفیانہ و کائناتی شعور کے مالک جدید اردو نظم نگار مانے جاتے ہیں۔ آپ جھنگ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے