خاموشی سے بھی طوفان اٹھتے ہیں
Khamoshi se bhi Toofaan Uth-Te Hain Khatir
خاموشی سے بھی طوفان اٹھتے ہیں اگر سمجھو تو بات ہے
کہ روح کی صدا کو دبایا نہیں جا سکتا سدا!
ہم نے تو سچائی کے لیے ہر آزمائش کو سہا
پر حق کے راستے سے قدم ہٹایا نہیں جا سکتا سدا!
خاطرؔ خودداری کا یہ سفر سدا تابندہ رہے گا
جسے تاریخ کے اوراق سے مٹایا نہیں جا سکتا سدا!
Khamoshi Se Bhi Toofaan Uth-te Hain Agar Samjho To Baat Hai
Ke Rooh Ki Sada Ko Dabaya Nahin Ja Sakta Sada!
Hum Ne To Sacchayi Ke Liye Har Aazmaayish Ko Saha
Par Haq Ke Raaste Se Qadam Hataya Nahin Ja Sakta Sada!
خاطر غزنوی
پروفیسر محمد ابراہیم المعروف خاطرؔ غزنوی (25 نومبر 1925ء – 7 جولائی 2008ء) جدید ہندکو ادب کے بانی، اردو غزل و نظم کے عظیم استاد، ممتاز محقق، ماہرِ لسانیات اور اکادمی ادبیاتِ پاکستان کے سابق...
