شاعری ہب / غزل / وہ دن بھی ہے آنے والا

وہ دن بھی ہے آنے والا

Woh Din bhi Hai Aane Wala

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

وہ دن بھی ہے آنے والا تڑپے گا ، تڑپانے والا پھر ہے کسی پر آنے والا دل ہے قیامت ڈھانے والا

دیکھ رہا ہے غور سے اُن کو آنے والا ، جانے والا

میں نہ ہٹوں گا ڈر سے تیرے دَر پکائے بہکانے والا

بزم میں اُن کی میں ہی میں ہوں چوٹ جگر پر کھانے والا سانس کا رشتہ ٹوٹ رہا ہے کب آئے گا آنے والا اُن کی بلا سے ، اُن کو کیا غم مٹ جائے مٹ جانے والا آنکھوں سے دل میں دَر آیا وہ کم گو ، شرمانے والا بُھول کر آیا پھر نہ ادھر کو بات بنا کر جانے والا کاش نصیر کوئی مل جاتا راہ پر اُس کو لانے والا

Woh din bhi hai aane wala tarapay ga, tarpane wala phir hai kisi par aane wala dil hai qayamat dhane wala

Dekh raha hai ghaur se un ko aane wala, jane wala

Main na haton ga dar se tere dar pakaye bahkane wala

Bazm mein un ki main hi main hoon chot jigar par khane wala saans ka rishta toot raha hai kab aaye ga aane wala un ki bala se, un ko kya gham mit jaye mit jane wala aankhon se dil mein dar aaya woh kam-go, sharmane wala bhool kar aaya phir na udhar ko baat bana kar jane wala kaash Naseer koi mil jata raah par us ko lane wala

غزل Urdu
Comment
پیر نصیر الدین نصیر گیلانیؒ
تعارفِ شاعر

پیر نصیر الدین نصیر گیلانیؒ

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 1949ء – 2009ء 📍 گولڑہ شریف، اسلام آباد، پاکستان

سید پیر نصیر الدین نصیر گیلانیؒ (14 نومبر 1949ء – 13 فروری 2009ء، گولڑہ شریف، اسلام آباد) خانقاہِ عالیہ گولڑہ شریف کے سجادہ نشین، عظیم صوفی بزرگ، محقق اور قادر الکلام شاعر تھے۔ وہ حضرت...

✍️ جواب دیں / تبصرہ فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے۔