شاعری ہب / غزل / مقدر کا لکھا ہے

مقدر کا لکھا ہے

Muqaddar ka Likha Hai

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

مقدر کا لکھا ہے کٹ سکتا نہیں

راہ سے اُن کی ، ہمارا پاؤں ہٹ سکتا نہیں

دیکھ کر رنگ چمن آنسو بہانے چاہئیں

کیا ہمارا خُون دل پھولوں میں بٹ سکتا نہیں

کیسی وہ محفلیں تھیں ، کیسے کیسے لوگ تھے

نہرا دور ماضی کیا پلٹ سکتا نہیں ؟

دم قدم کے ساتھ رہتی ہے زمانے کی ہوا اُن کے قدموں سے کوئی ذرہ لپٹ سکتا نہیں

وہ جفا جو میں وفا پیشہ محبت نامراد اُن کے میرے درمیاں سودا یہ پٹ سکتا نہیں

Muqaddar ka likha hai kat sakta nahi

Raah se un ki, hamara paaon hat sakta nahi

Dekh kar rang-e-chaman aansu bahane chahiyein

Kya hamara khoon-e-dil phoolon mein bat sakta nahi

Kaisi woh mehfilein thin, kaisay kaisay log thay

Nahra daur-e-maazi kya palat sakta nahi?

Dam-e-qadam ke saath rehti hai zamane ki hawa un ke qadmon se koi zarra lipat sakta nahi

Woh jafa jo main wafa-pesha mohabbat na-muraad un ke mere darmiyan sauda yeh pat sakta nahi

غزل Urdu
Comment
پیر نصیر الدین نصیر گیلانیؒ
تعارفِ شاعر

پیر نصیر الدین نصیر گیلانیؒ

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 1949ء – 2009ء 📍 گولڑہ شریف، اسلام آباد، پاکستان

سید پیر نصیر الدین نصیر گیلانیؒ (14 نومبر 1949ء – 13 فروری 2009ء، گولڑہ شریف، اسلام آباد) خانقاہِ عالیہ گولڑہ شریف کے سجادہ نشین، عظیم صوفی بزرگ، محقق اور قادر الکلام شاعر تھے۔ وہ حضرت...

✍️ جواب دیں / تبصرہ فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے۔