شاعری ہب / غزل / غیر کو دیکھ کے غیرت سے پگھل جاؤں گا

غیر کو دیکھ کے غیرت سے پگھل جاؤں گا

Ghair ko Dekh ke Ghairat se Pighal Jaoon Ga

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

غیر کو دیکھ کے غیرت سے پگھل جاؤں گا

صورت شمع تری بزم میں جل جاؤں گا

وہ بلاتے ہی رہیں میں تو مچل جاؤں گا

اُن کی محفل میں نہ آج اور نہ کل جاؤں گا

اتنا بھولا نہیں ، باتوں سے بہل جاؤں گا

وہ سمجھتے ہیں کہ ٹالیں گے تو ٹل جاؤں گا

آسرا مجھ سے یہ کہتا ہے کہ پھوٹے گی سحر

غم کا کہنا ہے اندھیرے میں نگل جاؤں گا

آپ کیوں اتنے پریشاں ہیں جناب ناصح

ٹھوکریں کھا کے زمانے کی سنبھل جاؤں گا

گلشن دہر کا اک برگ خزاں دیدہ ہوں

خاک ہو جاؤں گا ، سڑ جاؤں گا ، گل جاؤں گا

آپ پھرتے ہیں اگر قول سے بیشک پھر جائیں

میں تو ایسا نہیں جو بات بدل جاؤں گا

ہے ارادہ تو مرا کوچہ جاناں کا نصیر

دل نہ مانا ، تو کہیں اور نکل جاؤں گا

Ghair ko dekh ke ghairat se pighal jaoon ga

Soorat-e-sham'a teri bazm mein jal jaoon ga

Woh bulatay hi rahein main to machal jaoon ga

Un ki mehfil mein na aaj aur na kal jaoon ga

Itna bhoola nahi, baaton se behal jaoon ga

Woh samajhte hain ke taalain ge to tal jaoon ga

Aasra mujh se yeh kehta hai ke phootay gi sahar

Gham ka kehna hai andheray mein nigal jaoon ga

Aap kyun itne pareshan hain janab-e-naseh

Thokrein kha ke zamane ki sambhal jaoon ga

Gulshan-e-dahr ka ik barg-e-khazan deedah hoon

Khaak ho jaoon ga, sarh jaoon ga, gal jaoon ga

Aap phirte hain agar qaul se beshak phir jayein

Main to aisa nahi jo baat badal jaoon ga

Hai irada to mera koocha-e-jaana ka Naseer

Dil na maana, to kahin aur nikal jaoon ga

غزل Urdu
Comment
پیر نصیر الدین نصیر گیلانیؒ
تعارفِ شاعر

پیر نصیر الدین نصیر گیلانیؒ

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 1949ء – 2009ء 📍 گولڑہ شریف، اسلام آباد، پاکستان

سید پیر نصیر الدین نصیر گیلانیؒ (14 نومبر 1949ء – 13 فروری 2009ء، گولڑہ شریف، اسلام آباد) خانقاہِ عالیہ گولڑہ شریف کے سجادہ نشین، عظیم صوفی بزرگ، محقق اور قادر الکلام شاعر تھے۔ وہ حضرت...

✍️ جواب دیں / تبصرہ فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے۔