شاعری ہب / نظم / گلبادشاہ (افغان بچے کا المیہ)

گلبادشاہ (افغان بچے کا المیہ)

Gulbadshah Nazm Zehra Nigah

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

گلبادشاہ! تو جن پہاڑوں کا پرور دہ تھا

وہاں بارود کے دھویں نے تیرے بچپن کو چھین لیا!

تیرے ننھے ہاتھوں میں قلم کے بجائے بندوق تھما دی گئی

اور تیرے خوابوں کے گلشن کو راکھ بنا دیا گیا!

زہراؔ امن اور انسانیت کا یہ نوحہ سدا گونجتا رہے گا

تا کہ دنیا معصوم بچوں کے حق کو پہچان سکے!

Gulbadshah! Tu Jin Pahadon Ka Parwarda Tha

Wahan Barood Ke Dhuen Ne Tere Bachpan Ko Chheen Liya!

Tere Nanhe Haathon Mein Qalam Ke Bajaye Bandooq Thama Di Gayi

Aur Tere Khwabon Ke Gulshan Ko Raakh Bana Diya Gaya!

نظم Urdu
Comment
زہرا نگاہ
تعارفِ شاعر

زہرا نگاہ

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 14 مئی 1937 — حیات (Living Legend) 📍

سیدہ زہرا نگاہ (پیدائش: 14 مئی 1937ء) اردو ادب کی تاریخ میں نسائی وقار، دلکش ترنم، کلاسیکی شائستگی اور گہرے سماجی شعور کی سب سے معتبر اور مقبول ترین شاعرہ ہیں۔ آپ حیدر آباد دکن...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے