شاعری ہب / نعت / میرے کملی والے کی شان ہی نرالی ہے

میرے کملی والے کی شان ہی نرالی ہے

Mere Kamli Oaley ki Šan hi Nrali Hai

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

میرے کملی والے کی شان ہی نرالی ہے

دو جہاں کے داتا ہیں سارا جگ سوالی ہے

خُلد جس کو کہتے ہیں میری دیکھی بھالی ہے

سبز سبز گنبد ہے اور سنہری جالی ہے

چھاؤں مہکی مہکی ہے دھوپ ٹھنڈی ٹھنڈی ہے

شہر مصطفٰی ﷺ تیری بات ہی نرالی ہے

وہ بلالؓ حبشی ہوں یا اویس قرنی ہوں

ان ﷺ پہ مرنے والوں کی ہر ادا نرالی ہے

ہر طرف مدینے میں بھیڑ ہے فقیروں کی

ایک دینے والا ہے کل جہاں سوالی ہے

قبر کے اندھیرے کا اے سعید کیا خطرہ

شمع مصطفائی سے میں نے لو لگا لی ہے

Mere kamli oaley ki šan hi nrali hai

Do jahan ke data hain sara jag Sawali hai

Khld Jis ko kehte hain Meri dikhi bhali hai

Sabz Sabz Gumbad hai aur Sunahri Jaali hai

Chhaon mhki mhki hai dhoop thndi thndi hai

Shehar mstfi Teri Baat hi nrali hai

Woh blal habshi hoon ya aois qrni hoon

Un pe mrney oalon ki Har Ada nrali hai

Har taraf Madine mein Bheed hai fqiron ki

Ek Dene vala hai kal jahan Sawali hai

Qabr ke Andhere ka aey said kiya khatra

Sham mstfaئi se mein Ne lo laga li hai

نعت
Comment
ن
تعارفِ شاعر

نامعلوم / روایتی کلام

🏛️ روایتی و کلاسیکی

وہ لازوال اور مقبولِ عام نعتیں اور سلام جن کے تخلیق کار تاریخ میں نامعلوم ہیں یا جو روایتی ثنا خوانی کا حصہ ہیں۔

✍️ جواب دیں / تبصرہ فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے۔