شاعری ہب / غزل / تم مرے پاس ہوتے ہو گویا جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا

تم مرے پاس ہوتے ہو گویا جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا

Tum Mere Paas Hote Ho Goya Ghazal Momin Khan Momin

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

تم مرے پاس ہوتے ہو گویا

جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا!

حالِ دل یار کو لکھوں کیوں کر

ہاتھ دل سے جدا نہیں ہوتا!

کیوں سنے عرضِ مضطرب اے دل

نالہ جب نارسا نہیں ہوتا!

مومنؔ اس عاشقی کے کوچے میں

کوئی بھی باوفا نہیں ہوتا!

Tum Mere Paas Hote Ho Goya

Jab Koi Doosra Nahin Hota!

Haal-e-Dil Yaar Ko Likhoon Kyun Kar

Haath Dil Se Juda Nahin Hota!

Kyun Sune Arz-e-Muztarib Aye Dil

Naala Jab Naa-Rasa Nahin Hota!

غزل Urdu
Comment
حکیم مومن خان مومن
تعارفِ شاعر

حکیم مومن خان مومن

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 1800 — 14 مئی 1852 📍

حکیم مومن خان مومنؔ (1800ء – 14 مئی 1852ء) اردو غزل کی تاریخ کے سب سے پروقار، نازک خیال، رومان پرور اور رمز و کنایہ کے امام شاعر تھے۔ آپ دہلی میں شاہ عبد العزیز...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے