شاعری ہب / نظم / محبت ایسی بارش ہے

محبت ایسی بارش ہے

Mohabbat Aisi Baarish Hai Nazm Noshi Gilani

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

محبت ایسی بارش ہے جو دل کی بنجر زمیں کو ہرا کر دیتی ہے!

اور ہجر کے تپتے صحرا کو نخلستان بنا دیتی ہے!

میں نے تو اس بارش میں خود کو بھگو کر دیکھا ہے

یہ روح کے ہر اک زخم کو امر ترانہ بنا دیتی ہے!

نوشیؔ پیار کی یہ برکھا سدا برستی رہے

جس سے محبت کا یہ گلشن شاداب رہے!

Mohabbat Aisi Baarish Hai Jo Dil Ki Banjar Zameen Ko Hara Kar Deti Hai!

Aur Hijr Ke Tapte Sehra Ko Nakhlastaan Bana Deti Hai!

Main Ne To Is Baarish Mein Khud Ko Bhigo Kar Dekha Hai

Yeh Rooh Ke Har Ik Zakhm Ko Amar Tarana Bana Deti Hai!

نظم Urdu
Comment
نوشی گیلانی
تعارفِ شاعر

نوشی گیلانی

🏛️ معاصر دور ⏳ 14 مارچ 1964 — -- 📍

نشاط گیلانی المعروف نوشیؔ گیلانی (پیدائش: 14 مارچ 1964ء، بہاولپور) پروین شاکر کے بعد اردو ادب کی سب سے مقبول، نازک خیال، حساس اور دردمند نسائی آواز ہیں۔ آپ نے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے اردو...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے