شاعری ہب / غزل / ہوش اڑتے ہیں مرے جلوہ نما ہونے سے

ہوش اڑتے ہیں مرے جلوہ نما ہونے سے

Hosh Udte Hain Mere Jalwa-Numa Hone se Ghazal Dagh Dehlvi

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

ہوش اڑتے ہیں مرے جلوہ نما ہونے سے

آئینے کو بھی حیا آتی ہے شرمانے سے

ہم تو بیٹھے ہیں ترے تیرِ نظر کے آگے

دل بچائیں گے بھلا کیسے ترے نشانے سے

داغؔ اس شوخ کے انداز بیاں کا کیا کہنا

جس نے جادو جگایا ہے ہر اک بہانے سے

Hosh Udte Hain Mere Jalwa-Numa Hone Se

Aayine Ko Bhi Haya Aati Hai Sharmaane Se

Hum To Baithe Hain Tere Teer-e-Nazar Ke Aage

Dil Bachayeinge Bhala Kaise Tere Nishane Se

غزل
Comment
نواب مرزا داغ دہلوی
تعارفِ شاعر

نواب مرزا داغ دہلوی

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 25 مئی 1831 — 15 فروری 1905 📍

نواب مرزا خاں داغ دہلوی (25 مئی 1831ء – 15 فروری 1905ء) اردو زبان کے سب سے بڑے زبان دان، فصیح اللسان اور شوخیِ گفتار و محاورہ بندی کے بے تاج بادشاہ تسلیم کیے جاتے...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے