شاعری ہب / غزل / لطف وہ عشق میں پائے ہیں کہ جی جانتا ہے

لطف وہ عشق میں پائے ہیں کہ جی جانتا ہے

Lutf Woh Ishq mein Paaye Hain ke Jee Jaanta Hai Ghazal Dagh Dehlvi

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

لطف وہ عشق میں پائے ہیں کہ جی جانتا ہے

رنج بھی اتنے اٹھائے ہیں کہ جی جانتا ہے

جو زمانے کے ستم ہیں وہ زمانہ جانے

ہم نے جو درد سہے ہیں کہ جی جانتا ہے

آپ تو وعدہ خلافی پہ اتر آئے ہیں

ہم نے کیا خواب سجائے ہیں کہ جی جانتا ہے

داغؔ اس شوخ کے جلووں کی حقیقت مت پوچھ

ہوش ہم نے جو گنوائے ہیں کہ جی جانتا ہے

Lutf Woh Ishq Mein Paaye Hain Ke Jee Jaanta Hai

Ranj Bhi Itne Uthaye Hain Ke Jee Jaanta Hai

Jo Zamane Ke Sitam Hain Woh Zamana Jaane

Hum Ne Jo Dard Sahe Hain Ke Jee Jaanta Hai

Aap To Waada-Khilaafi Pe Utar Aaye Hain

Hum Ne Kya Khwab Sajaye Hain Ke Jee Jaanta Hai

غزل
Comment
نواب مرزا داغ دہلوی
تعارفِ شاعر

نواب مرزا داغ دہلوی

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 25 مئی 1831 — 15 فروری 1905 📍

نواب مرزا خاں داغ دہلوی (25 مئی 1831ء – 15 فروری 1905ء) اردو زبان کے سب سے بڑے زبان دان، فصیح اللسان اور شوخیِ گفتار و محاورہ بندی کے بے تاج بادشاہ تسلیم کیے جاتے...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے