عشق میں ہم نے پایا ہے جو داغِ جگر
Ishq mein Hum Ne Paya Hai Jo Daagh-e-Jigar
عشق میں ہم نے پایا ہے جو داغِ جگر
وہ تو روشن رہے گا سدا تا سحر
ہم نے دہلی کو چھوڑا تو ویران ہو گئی بزم
اب کہاں ڈھونڈو گے وہ شاہانہ ہنر
ظفرؔ وقت کی گرد میں سب چھپ ہی جائے گا
پر یہ غزل گونجتی رہے گی ادھر ادھر
Ishq Mein Hum Ne Paaya Hai Jo Daagh-e-Jigar
Woh To Roshan Rahe Ga Sada Taa Sahar
Hum Ne Dehli Ko Chhoda To Weeran Ho Gayi Bazm
Ab Kahan Dhoondo Ge Woh Shahana Hunar
غزل
تعارفِ شاعر
بہادر شاہ ظفر
ابو الظفر سراج الدین محمد بہادر شاہ ظفر (24 اکتوبر 1775ء – 7 نومبر 1862ء) مغلیہ سلطنت کے بیسویں اور آخری تاجدار، تحریکِ آزادی 1857ء کے قائد اور اردو کلاسیکی ادب کے انتہائی صاحبِ طرز،...
