شاعری ہب / غزل / دونوں جہاں تری محبت میں ہار کے

دونوں جہاں تری محبت میں ہار کے

Donon Jahan Teri Mohabbat mein Haar ke

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

دونوں جہاں تری محبت میں ہار کے

وہ جا رہا ہے کوئی شبِ غم گزار کے

ویراں ہے مے کدہ خم و ساغر اداس ہیں

تم کیا گئے کہ روٹھ گئے دن بہار کے

اک فُرصتِ گناہ ملی وہ بھی چار دن

دیکھے ہیں ہم نے حوصلے پروردگار کے

دنیا نے تیری یاد سے بیگانہ کر دیا

تجھ سے بھی دل فریب ہیں غم روزگار کے

بھولے سے مسکرا تو دیے تھے وہ آج فیضؔ

مت پوچھ ولولے دلِ نا کردہ کار کے

Donon Jahan Teri Mohabbat Mein Haar Ke

Woh Ja Raha Hai Koi Shab-e-Gham Guzar Ke

Weeran Hai Maikhana Khum-o-Saaghar Udaas Hain

Tum Kya Gaye Ke Rooth Gaye Din Bahaar Ke

Duniya Ne Teri Yaad Se Begaana Kar Diya

Tujh Se Bhi Dilfareb Hain Gham Rozgaar Ke

غزل
Comment
فیض احمد فیض
تعارفِ شاعر

فیض احمد فیض

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 13 فروری 1911 — 20 نومبر 1984 📍

فیض احمد فیض (13 فروری 1911ء – 20 نومبر 1984ء) بیسویں صدی کے سب سے عظیم، بااثر اور عالمی شہرت یافتہ ترقی پسند شاعر، صحافی اور دانشور تھے۔ آپ سیالکوٹ میں پیدا ہوئے اور بعد...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے