دونوں جہاں تری محبت میں ہار کے
Donon Jahan Teri Mohabbat mein Haar ke
دونوں جہاں تری محبت میں ہار کے
وہ جا رہا ہے کوئی شبِ غم گزار کے
ویراں ہے مے کدہ خم و ساغر اداس ہیں
تم کیا گئے کہ روٹھ گئے دن بہار کے
اک فُرصتِ گناہ ملی وہ بھی چار دن
دیکھے ہیں ہم نے حوصلے پروردگار کے
دنیا نے تیری یاد سے بیگانہ کر دیا
تجھ سے بھی دل فریب ہیں غم روزگار کے
بھولے سے مسکرا تو دیے تھے وہ آج فیضؔ
مت پوچھ ولولے دلِ نا کردہ کار کے
Donon Jahan Teri Mohabbat Mein Haar Ke
Woh Ja Raha Hai Koi Shab-e-Gham Guzar Ke
Weeran Hai Maikhana Khum-o-Saaghar Udaas Hain
Tum Kya Gaye Ke Rooth Gaye Din Bahaar Ke
Duniya Ne Teri Yaad Se Begaana Kar Diya
Tujh Se Bhi Dilfareb Hain Gham Rozgaar Ke
فیض احمد فیض
فیض احمد فیض (13 فروری 1911ء – 20 نومبر 1984ء) بیسویں صدی کے سب سے عظیم، بااثر اور عالمی شہرت یافتہ ترقی پسند شاعر، صحافی اور دانشور تھے۔ آپ سیالکوٹ میں پیدا ہوئے اور بعد...
