شاعری ہب / غزل / شاید کہ چشم تر سے پکارا گیا تھا میں

شاید کہ چشم تر سے پکارا گیا تھا میں

Shayad ke Chashm-e-Tar se Pukara Gaya Tha Main

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

شاید کہ چشمِ تر سے پکارا گیا تھا میں

یا پھر ترے خیال سے گزارا گیا تھا میں

مجھ کو خبر نہ تھی کہ مری سمت آئے گی

جس سمت سے وہ تیر اتارا گیا تھا میں

اک موجِ درد تھی جو مجھے بہا لے گئی

ساحل پہ دیکھ کر ہی پکارا گیا تھا میں

Shayad Ke Chashm-e-Tar Se Pukara Gaya Tha Main

Ya Phir Tere Khayal Se Guzara Gaya Tha Main

Mujh Ko Khabar Na Thi Ke Meri Simt Aaye Gi

Jis Simt Se Woh Teer Utaran Gaya Tha Main

غزل
Comment
پروین شاکر
تعارفِ شاعر

پروین شاکر

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 24 نومبر 1952 — 26 دسمبر 1994 📍 کراچی، پاکستان

پروین شاکر (24 نومبر 1952ء – 26 دسمبر 1994ء) اردو ادب کی صفِ اول کی عظیم شاعرہ، ادیبہ اور معلمہ تھیں۔ ان کا تعلق پاکستان سے تھا۔ پروین شاکر کو نسائی احساسات اور نازک جذبوں...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے