شاعری ہب / نظم / ابي سينيا

ابي سينيا

Abi Seneya

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

يورپ کے کرگسوں کو نہيں ہے ابھي خبر

ہے کتني زہر ناک ابي سينيا کي لاش

ہونے کو ہے يہ مردہ ديرينہ قاش قاش!

تہذيب کا کمال شرافت کا ہے زوال

غارت گري جہاں ميں ہے اقوام کي معاش

ہر گرگ کو ہے برہ معصوم کي تلاش!

اے وائے آبروئے کليسا کا آءنہ

روما نے کر ديا سر بازار پاش پاش

پير کليسيا ! يہ حقيقت ہے دلخراش!

Orp ke krgson ko nhn hai abh khabar

Hai ktn zahr Naak ab sna k lash

Honey ko hai h Murda drnh qash qash

Thzb ka Kamal sharafat ka hai zoal

Ghart gr jahan mn hai aqvam k maash

Har grg ko hai brh masum k Talaash

Aey oae aabroe klsa ka aa'nh

Roma Ne kar da sar bazaar pash pash

Pr klsa ! h hqqt hai dlkhrash

نظم Urdu
Comment
علامہ اقبال
تعارفِ شاعر

علامہ اقبال

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 9 نومبر 1877 — 21 اپریل 1938 📍

علامہ محمد اقبال (9 نومبر 1877ء – 21 اپریل 1938ء) مفکرِ پاکستان، شاعرِ مشرق، حکیم الامت اور بیسویں صدی کے سب سے عظیم مسلم فلسفی اور شاعر تھے۔ آپ نے اردو اور فارسی زبان میں...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے