ولی دکنی

Wali Deccani

Classical
1667ء-1707ء اورنگ آباد / احمد آباد, ہندوستان
ولی محمد ولی المعروف ولیؔ دکنی (1667ء – 1707ء، اورنگ آباد / دکن) اردو شاعری کی تاریخ کے سب سے اہم ترین ستون اور 'باباۓ ریختہ' کہلاتے ہیں۔ آپ وہ پہلے عظیم شاعر ہیں جن کا ریختہ/اردو دیوان 1700ء کے لگ بھگ دلی پہنچا اور اس نے دہلی کے فارسی نواز شعراء (بشمول سراج الدین علی خان آرزو، حاتم، فغان اور میر تقی میر) کے دلوں کو مسحور کر کے انہیں اپنی مادری زبان ریختہ میں غزل کہنے کی ترغیب دی۔ ولی دکنی نے دکنی اور شمالی ہند کی زبانوں کا ایسا دلکش امتزاج تخلیق کیا جس سے باقاعدہ کلاسیکی اردو غزل کا آغاز ہوا۔ آپ کے تاریخی اشعار جیسے 'جسے عشق کا تیر کاری لگے / اسے زندگی کیوں نہ بھاری لگے' اور 'شغل بہتر ہے عشق بازی کا / کیا حقیقی و کیا مجازی کا' اردو ادب کے تاریخی سنگِ میل ہیں۔
تیرے دیدار کی تمنا ہے ورنہ جینے کا کیا بھروسا ہے
Tere Deedaar Ki Tamanna Hai Warnah Jeene Ka Kya Bharosa Hai
تفصیل دیکھیں »
دل کو آئینہ بنا کے دیکھ ذرا تجھ میں محبوب کا ہے جلوہ عیاں
Dil Ko Aayina Bana Ke Dekh Zara Tujh Mein Mehboob Ka Hai Jalwa Ayaan
تفصیل دیکھیں »
یاد کرنا ہر گھڑی اس یار کا کام ہے عاشق دل فگار کا
Yaad Karna Har Ghadi Us Yaar Ka Kaam Hai Aashiq Dil-Figaar Ka
تفصیل دیکھیں »
کوچۂ یار عین جنت ہے جس کی مٹی بھی مشک و عنبر ہے
Koocha-e-Yaar Ain Jannat Hai Jis Ki Mitti Bhi Mushk-o-Ambar Hai
تفصیل دیکھیں »
آنکھ اس مست کی گلابی ہے جس سے ہر دل کی شے شرابی ہے
Aankh Us Mast Ki Gulaabi Hai Jis Se Har Dil Ki Shai Sharaabi Hai
تفصیل دیکھیں »
جسے عشق کا تیر کاری لگے اسے زندگی کیوں نہ بھاری لگے
Jise Ishq Ka Teer Kaari Lage Use Zindagi Kyun Na Bhaari Lage
تفصیل دیکھیں »
شغل بہتر ہے عشق بازی کا کیا حقیقی و کیا مجازی کا
Shughal Behtar Hai Ishq Baazi Ka Kya Haqeeqi-o-Kya Majaazi Ka
تفصیل دیکھیں »
مفلسی سب بہار کھوتی ہے مرد کا اعتبار کھوتی ہے
Muflisi Sab Bahaar Khoti Hai Mard Ka Ehtibaar Khoti Hai
تفصیل دیکھیں »