شاعری ہب / نعت / طیبہ کے خار بھی ہیں گلِ جنت سے خوشنما

طیبہ کے خار بھی ہیں گلِ جنت سے خوشنما

Taiba ke Khaar bhi Hain Gal-e Jannat se Khoshnma

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

طیبہ کے خار بھی ہیں گلِ جنت سے خوشنما

ان کے قدم کی برکت سے سجی ہے ہر فضا

گنبدِ خضریٰ کی دید سے چمکی بصیرت

ویرانۂ ہستی کو ملی ہے دار الشفا

شاہانِ جہاں جھکتے ہیں چوکھٹ پہ تری

تو فخرِ دو عالم ہے تو سیدِ ورا

محشر کے تپتے دن میں شفاعت فرمانا

کالی کملی کے تلے عاصی کو ردا عطا

امیرؔ کے لبوں پہ ہے سدا صل علیٰ کا ورد

کہ دربارِ پیمبر سے ملے ثنا عطا

Taiba ke Khaar bhi hain gal-e Jannat se khoshnma

Un ke Qadam ki barkat se sji hai Har faza

Gumbad-e khzri ki did se Chamki bsirt

Oiranh hasti ko malli hai Daar alshfa

Shahan-e jahan jhkte hain chokht pe tri

To fakhr-e do alam hai to sid-e ora

Mahshar ke tptey Din mein Shafa'at farmana

Kali kamli ke tley aasi ko rda Ata

Amir ke Labon pe hai sada sl ali ka ord

Ke darbar-e Paighambar se mile sna Ata

نعت
Comment
امیر مینائی
تعارفِ شاعر

امیر مینائی

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 1828 — 1900 📍 لکھنؤ، انڈیا

مشہور و معروف شاعر و ادیب تھے۔ وہ 1828ء میں شاہ نصیر الدین شاہ حیدر نواب اودھ کے عہد میں لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ امیر احمد نام مولوی کرم محمد کے بیٹے اور مخدوم شاہ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے