شاعری ہب / نعت / شوقِ دیدار نے دیوانہ بنا رکھا ہے

شوقِ دیدار نے دیوانہ بنا رکھا ہے

Shoq-e Deedar Ne Deewana Bana Rakha Hai

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

شوقِ دیدار نے دیوانہ بنا رکھا ہے

دل میں مدینے کا ٹھکانہ بنا رکھا ہے

سبز گنبد کی تجلی سے منور ہے نگاہ

ہر سانس کو درود کا نغمہ بنا رکھا ہے

شاہِ خوباں کے دربار کا منگتا ہوں میں

جس نے سائل کو یگانہ بنا رکھا ہے

محشر کے تپتے دن میں پناہ پائیں گے ہم

دامنِ رحمت کو شفاخانہ بنا رکھا ہے

حفیظؔ تائب کے قلم کا یہ شرف ہے کتنا

نعت کو بخشش کا بہانہ بنا رکھا ہے

Shoq-e Deedar Ne Deewana bana rakha hai

Dil mein Madine ka thkanh bana rakha hai

Sabz Gumbad ki tjli se Munawwar hai Nigah

Har sãs ko Durood ka naghma bana rakha hai

Shah-e khoban ke darbar ka Mangta hoon mein

Jis Ne saئl ko yagana bana rakha hai

Mahshar ke tptey Din mein panah paayein Ge Hum

Daman-e Rehmat ko shfakhanh bana rakha hai

Hfiz taئb ke qalam ka yeh shrf hai kitna

Naat ko Bakhshish ka bhanh bana rakha hai

نعت
Comment
حفیظ تائب
تعارفِ شاعر

حفیظ تائب

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 1931ء – 2004ء 📍 پشاور / لاہور، پاکستان

عبدالحفیظ المعروف 'حفیظ تائب' (14 فروری 1931ء – 12 جون 2004ء، پشاور / لاہور) معاصر اردو اور پنجابی نعت گوئی کے امام، مجدد اور بابائے نعت تھے۔ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے اردو...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے