شاعری ہب / نظم / سمجھا لہو کی بوند اگر تو اسے تو خیر

سمجھا لہو کی بوند اگر تو اسے تو خیر

Samjha Lahu ki Bund Agar Tu Use to Khair

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

سمجھا لہو کي بوند اگر تو اسے تو خير

دل آدمي کا ہے فقط اک جذبہء بلند

گردش مہ و ستارہ کي ہے ناگوار اسے

دل آپ اپنے شام و سحر کا ہے نقش بند

جس خاک کے ضمير ميں ہے آتش چنار

ممکن نہيں کہ سرد ہو وہ خاک ارجمند

Samjha Lahoo Ki Boond Agar Tu Issay To Khair

Dil Adami Ka Hai Faqt Ek Jazba’ay Buland

Gardish Mah-O-Sitara Ki Hai Nagwaar Isse

Dil Ap Apne Sham-O-Sahar Ka Hai Naqsh Band

Jis Khak Ke Zameer Mein Hai Aatish-E-Chinaar

Mumkin Nahin K Sard Ho Vo Khaak-E-Arjuman

نظم Urdu
Comment
علامہ اقبال
تعارفِ شاعر

علامہ اقبال

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 9 نومبر 1877 — 21 اپریل 1938 📍

علامہ محمد اقبال (9 نومبر 1877ء – 21 اپریل 1938ء) مفکرِ پاکستان، شاعرِ مشرق، حکیم الامت اور بیسویں صدی کے سب سے عظیم مسلم فلسفی اور شاعر تھے۔ آپ نے اردو اور فارسی زبان میں...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے