شاعری ہب / حمد / مناجات: تو ہی ہے جلوہ گر پردہ ہائے راز میں

مناجات: تو ہی ہے جلوہ گر پردہ ہائے راز میں

Munajat Tu hi Hai Jalwa Gar Parda Haye Raaz mein

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

تو ہی ہے جلوہ گر پردہ ہائے راز میں

سمایا ہے ترا نور ہر سوز و ساز میں

ہم خاک نشینوں کو بخشی تو نے یہ جبیں

کہ سجدہ ریز ہیں تیری بارگاہِ نیاز میں

اصغرؔ کو ملا ہے تیری توحید سے سرور

کہ گم ہے دل مرا تیری یاد کے گداز میں

To hi hai Jalwa Gir parda haee raaz mein

Smaia hai tra Noor Har soz-o-Saaz mein

Hum khaak nshinon ko bkhshi to Ne yeh Jabeen

Ke Sajda riz hain Teri bargah-e niaz mein

Asghr ko mila hai Teri tauhid se suroor

Ke gum hai Dil Mara Teri Yaad ke gdaz mein

حمد
Comment
ا
تعارفِ شاعر

اصغر گونڈوی

🏛️ جدید دور 📍 گونڈہ / الہ آباد، بھارت

اصغر گونڈوی (1884-1936) اردو کے ممتاز صوفی شاعر جن کی شاعری میں توحید اور معرفت کے عمیق جلوے ملتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے