شاعری ہب / نظم / کربلا کا مسافر (شاہکار کلامِ اہلِ بیت)

کربلا کا مسافر (شاہکار کلامِ اہلِ بیت)

Karbala ka Musafir Nazm Mohsin Naqvi

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

سر جھکایا تو قلم ہو گیا سر شبیر کا

پر نہ جھکنے دیا پرچم ترے شبیر کا

دشتِ تپتے میں جلائی ہے وفا کی قندیل

خون سے سینچا ہے گلشن ترے شبیر کا

محسنؔ اس دور کے مقتل میں بھی زندہ ہے وہی

جس کے ماتھے پہ ہے نقشِ درِ شبیر کا!

Sar Jhukaya To Qalam Ho Gaya Sar Shabbir Ka

Par Na Jhukne Diya Parcham Tere Shabbir Ka

Dasht-e-Tapte Mein Jalayi Hai Wafa Ki Qandeel

Khoon Se Seencha Hai Gulshan Tere Shabbir Ka

نظم
Comment
محسن نقوی
تعارفِ شاعر

محسن نقوی

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 5 مئی 1947 — 15 جنوری 1996 📍 ڈیرہ غازی خان / لاہور، پاکستان

سید غلام عباس المعروف محسن نقوی (5 مئی 1947ء – 15 جنوری 1996ء) پاکستان کے صفِ اول کے عظیم، بے حد مقبول اور دلوں کو چھو لینے والے قادر الکلام شاعر تھے۔ آپ ڈیرہ غازی...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے