شاعری ہب / غزل / کہو کہ اب ہم کیا کریں

کہو کہ اب ہم کیا کریں

Kaho ke Ab Hum Kya Karein Ghazal Munir Niazi

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

کہو کہ اب ہم کیا کریں، کس راہ پہ چلیں

جب محبت کے نگر میں سب چراغ بجھ گئے

ہم تو نکلے تھے سچ کا پرچم اٹھا کر منیرؔ

پر زمانے کے ستم گر ہی ہم سے الجھ گئے

اب تو خاموشی ہی سب سے بڑی ڈھال ہے مری

جب الفاظ ہی اپنے معانی سے پھر گئے

Kaho Ke Ab Hum Kya Karein, Kis Raah Pe Chalein

Jadon Mohabbat Ke Nagar Mein Sab Chiraagh Bujh Gaye

Hum To Nikle The Sach Ka Parcham Utha Kar Munir

Par Zamane Ke Sitamgar Hi Hum Se Uljh Gaye

غزل Urdu
Comment
منیر نیازی
تعارفِ شاعر

منیر نیازی

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 9 اپریل 1928 — 26 دسمبر 2006 📍 ہوشیار پور / ساہیوال / لاہور، پاکستان

منیر احمد نیازی (9 اپریل 1928ء – 26 دسمبر 2006ء) اردو اور پنجابی ادب کے سب سے منفرد، طلسماتی، پرشکوہ اور سحر انگیز شاعر تسلیم کیے جاتے ہیں۔ آپ خان پور (ضلع ہوشیار پور، بھارت)...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے