شاعری ہب / شعر / جب بھی چاہو نیا اک ستم کر ڈالو

جب بھی چاہو نیا اک ستم کر ڈالو

Jab bhi Chaho Naya Ik Sitam Kar Dalo Sher Qateel

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

جب بھی چاہو نیا اک ستم کر ڈالو قتیلؔ

ہم نے ہر ستم کو محبت کا انعام سمجھا ہے

Jab Bhi Chaho Naya Ik Sitam Kar Dalo Qateel

Hum Ne Har Sitam Ko Mohabbat Ka In'aam Samjha Hai

شعر Urdu
Comment
قتیل شفائی
تعارفِ شاعر

قتیل شفائی

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 24 دسمبر 1919 — 11 جولائی 2001 📍 ہری پور / لاہور، پاکستان

محمد اورنگزیب خان المعروف قتیلؔ شفائی (24 دسمبر 1919ء – 11 جولائی 2001ء) اردو غزل اور فلمی نغمہ نگاری کی تاریخ کے سب سے مقبول، سحر انگیز ترنم کے مالک اور نغمگی کے بے تاج...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے