شاعری ہب / نعت / محشر میں شفاعت کا وسیلہ ہے درود

محشر میں شفاعت کا وسیلہ ہے درود

Mahshar mein Shafa’at ka Osilh Hai Durood

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

محشر میں شفاعت کا وسیلہ ہے درود

بخشائشِ عاصی کا جلیلہ ہے درود

شاہِ کونین کے دربار کا تحفہ ہے یہ

دل کے ویرانے کا چلیلہ ہے درود

طیبہ کی ہواؤں سے معطر ہوا سانس

عقبیٰ کی نجات کا قبیلہ ہے درود

قبر کے اندھیروں کو مٹائے گا یقیناً

نورِ ہدایت کا دلیلہ ہے درود

واصفؔ لبوں پہ سدا صل علیٰ کا ورد رہے

کہ مغفرت کا حسیں وسیلہ ہے درود

Mahshar mein Shafa'at ka osilh hai Durood

Bkhshaesh aasi ka jlilh hai Durood

Shah-e konin ke darbar ka tohfa hai yeh

Dil ke oiraney ka chlilh hai Durood

Taiba ki Hawaon se matr hua sãs

Aqbi ki njat ka qbilh hai Durood

Qabr ke Andheron ko Mitaye Ga yaqeenan

Noor-e hidayat ka dlilh hai Durood

Oasf Labon pe sada sl ali ka ord rhey

Ke Maghfirat ka Haseen osilh hai Durood

نعت
Comment
واصف علی واصف
تعارفِ شاعر

واصف علی واصف

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 15 جنوری 1929ء — 18 جنوری 1993ء 📍

حضرت واصف علی واصفؒ (15 جنوری 1929ء – 18 جنوری 1993ء، خوشاب / لاہور) بیسویں صدی کے سب سے ممتاز، فلسفیانہ اور دانائے راز صوفی مفکر، ادیب اور منفرد صوفی شاعر مانے جاتے ہیں۔ آپ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے