شاعری ہب / نعت / دلوں کے گلشن مہک رہے ہیں

دلوں کے گلشن مہک رہے ہیں

Dilon ke Gulshan Mahak Rhey Hain

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

دلوں کے گلشن مہک رہے ہیں

حضور تشریف لا رہے ہیں

زمین والے بھی جھومتے ہیں

فلک کے تارے بھی گا رہے ہیں

یہ کس کی آمد کی دھوم مچی ہے

ملک فلک سے سلامی کو آ رہے ہیں

گناہگارو اداس کیوں ہو

وہ شافعِ روزِ جزا رہے ہیں

غموں کے مارو سنبھل کے بیٹھو

مدینے والے بلا رہے ہیں

مقامِ بخشش کھلا ہے سب پر

کرم کے دریا بہا رہے ہیں

نیازیؔ خوش ہو کہ تیرے آقا

غلام کو پاس بلا رہے ہیں

Dilon ke Gulshan mahak rhey hain

Huẓur tashrif La rhey hain

Zameen oaley bhi jhomte hain

Falak ke Taare bhi Ga rhey hain

Yeh Kis ki Aamad ki dhum mchi hai

Mulk Falak se slami ko aa rhey hain

Gnahgaro udaas kyun ho

Woh shafa-e roz-e jza rhey hain

Ghammon ke maro snbhl ke bitho

Madine oaley bala rhey hain

Mqam-e Bakhshish khila hai Sab par

Karam ke Darya bha rhey hain

Niazi Khush ho ke Tere aqa

Ghulam ko paas bala rhey hain

نعت
Comment
عبدالستار نیازی
تعارفِ شاعر

عبدالستار نیازی

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 1938 — 2002 📍 فیصل آباد، پاکستان

عبدالستار نیازی 1938ئ میں ریاست کپور تھلہ (انڈیا) میں مستری بدر الدین مغل کے گھر پیدا ہوئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے