شاعری ہب / حمد / دلوں کے بھید جاننے والا مرا خدا ہے

دلوں کے بھید جاننے والا مرا خدا ہے

Dilon ke Bhed Janne Wala Mera Khuda Hai

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

دلوں کے بھید جاننے والا مرا خدا ہے

وہ ہر قدم پر مری خطاؤں کو ڈھانپتا ہے

اگرچہ میں نے بھلا دیا اس کے رابطوں کو

مگر وہ پھر بھی نوازشوں کو بڑھاتا ہے

پکارتا ہوں مصیبتوں میں اسی کو اکثر

وہی مرے غم کو دور کر کے ہنساتا ہے

مظفرؔ اس کے سوا کوئی بھی نہیں ہمارا

وہی ہے جو ہر گرے ہوئے کو اٹھاتا ہے

Dilon ke bhed janney vala Mara Khuda hai

Woh Har Qadam par mri Khataon ko dhanpta hai

Agarche mein Ne bhla diya Is ke rabton ko

Magar woh phir bhi Nawazishon ko brhata hai

Pukarta hoon msibton mein Usi / Assi ko aksar

Vahi mare Gham ko door kar ke hnsata hai

Mzfr Is ke soa Koi bhi nahin Hamara

Vahi hai jo Har grey hue ko athata hai

حمد
Comment
مظفر وارثی
تعارفِ شاعر

مظفر وارثی

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 1933ء – 2011ء 📍 میرٹھ، برطانوی ہندوستان / لاہور

محمد مظفر الدین صدیقی المعروف 'مظفر وارثی' (23 دسمبر 1933ء – 28 جنوری 2011ء، میرٹھ / لاہور) اردو زبان کے عظیم ترین نعت گو، حمد نگار اور لازوال نغمہ نگار تھے۔ انہوں نے دربارِ وارثیہ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے