رسول اللہ ﷺ کا مسنون طریقہ نماز: تکبیر سے سلام تک مرحلہ وار رہنمائی
- نماز دین کا ستون اور قیامت کے دن سب سے پہلا حساب نماز کا ہوگا۔
- تکبیر تحریمہ سے لے کر سلام پھیرنے تک ہر رکن کو سنت کے مطابق ادا کرنا لازم ہے۔
- قیام، قرات، رکوع، قومہ، سجود اور جلسہ میں اعتدال اور اطمینان (تعدیلِ ارکان) واجب ہے۔
- نماز میں دل کی حاضری اور خشوع و خضوع نماز کی روح ہے۔
مومن کی معراج — نماز: نماز اسلام کا دوسرا ستون اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں بندگی کا سب سے بڑا مظہر ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اسلام اور کفر کے درمیان فرق نماز کو چھوڑ دینا ہے۔
1. نماز سے پہلے کی شرائط (طہارت و قبلہ)
نماز شروع کرنے سے پہلے جسم، کپڑوں اور جگہ کی پاکیزگی، باوضو ہونا، ستر کا ڈھانپنا، قبلہ رخ ہونا اور وقت کا داخل ہونا لازمی شرائط ہیں۔
2. تکبیرِ تحریمہ اور قیام
قبلہ رخ کھڑے ہو کر دونوں ہاتھ کانوں کی لو تک اٹھائیں (خواتین کندھوں تک) اور "اللہ اکبر” کہتے ہوئے ناف کے نیچے ہاتھ باندھ لیں (دایاں ہاتھ بائیں پر رکھیں)۔ اس کے بعد ثناء (سبحانک اللھم)، تعوذ، تسمیہ، سورۃ الفاتحہ اور کوئی سورت تلاوت فرمائیں۔
3. رکوع اور قومہ
"اللہ اکبر” کہتے ہوئے رکوع میں جائیں، کمر سیدھی رکھیں اور دونوں ہاتھوں سے گھٹنوں کو پکڑ لیں۔ کم از کم تین مرتبہ «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ» پڑھیں۔ پھر «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہتے ہوئے سیدھے کھڑے ہوں اور «رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ» کہیں۔
4. سجدہ اور قعدہ
اطمینان سے سجدے میں جائیں۔ پیشانی اور ناک زمین پر خوب جمائیں۔ تین بار «سُبْحَانَ رَبِّيَ الأَعْلَى» پڑھیں۔ دونوں سجدوں کے درمیان سیدھے بیٹھ کر «رَبِّ اغْفِرْ لِي» پڑھیں۔ دوسری رکعت کے بعد التحیات، درودِ ابراہیمی اور مسنون دعا پڑھ کر دائیں اور بائیں طرف سلام پھیریں۔
