تقدیر اور انسانی عمل

✍️ ادارۂ تحریر اردو کوریج • 📅 30 ستمبر 2026 • ⏱️ مطالعہ: 7 منٹ
💡 خلاصہ و اہم ایمانی نکات (Key Takeaways):
  • اسلام میں تقدیر کا عقیدہ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جانے اور سستی کا نام نہیں ہے۔
  • انسان مجبورِ محض نہیں بلکہ اسے خیر اور شر کے انتخاب کا پورا ارادہ اور اختیار عطا کیا گیا ہے۔
  • اونٹ کو رسی سے باندھ کر پھر اللہ پر توکل کرنا ہی نبوی منہج اور اصل توکل ہے۔
📖 قرآنی ہدایت (Quranic Decree)
«وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ * وَأَنَّ سَعْيَهُ سَوْفَ يُرَىٰ»
اور یہ کہ انسان کو وہی کچھ ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے، اور یقیناً اس کی کوشش عنقریب دیکھی جائے گی۔ (سورۃ النجم: 39-40)
📜 فرمانِ رسول ﷺ (Prophetic Guidance)
«قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَعْقِلُهَا وَأَتَوَكَّلُ، أَوْ أُطْلِقُهَا وَأَتَوَكَّلُ؟ قَالَ: «اعْقِلْهَا وَتَوَكَّلْ»»
ایک دیہاتی نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! میں اونٹنی کو باندھ کر توکل کروں یا اسے کھلا چھوڑ کر توکل کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: پہلے اسے مضبوطی سے باندھو اور پھر اللہ پر توکل کرو۔ (جامع الترمذی: 2517)

اکثر لوگ عقیدہ تقدیر کو سمجھنے میں دو انتہاؤں کا شکار ہو جاتے ہیں: ایک گروہ انسان کو پتھر کی طرح بالکل بے بس اور مجبور مانتا ہے (جبریہ)، اور دوسرا گروہ انسان کو اپنے اعمال کا خود مختار خالق قرار دے کر تقدیرِ الٰہی سے الگ کر دیتا ہے (قدریہ)۔ دینِ اسلام کا راستہ ان دونوں کے درمیان اعتدال اور توازن کی شاہراہ ہے۔

کسب اور اختیار: انسان مجبور نہیں

اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل، ضمیر اور خیر و شر کی تمیز عطا کی ہے۔ انسان اپنی مرضی سے نیکی کی طرف قدم بڑھاتا ہے یا گناہ کا ارتکاب کرتا ہے۔ اس کی مثال ایسے ہے کہ بھوک لگنے پر انسان کھانا کھاتا ہے، وہ یہ نہیں کہتا کہ اگر میری تقدیر میں پیٹ بھرنا لکھا ہے تو کھانا خود میرے پیٹ میں چلا جائے گا۔ جس طرح دنیاوی امور میں انسان اسباب اختیار کرتا ہے، بالکل اسی طرح دین اور آخرت کے معاملات میں بھی عمل کرنا انسان کا فرض ہے۔

توکل کا صحیح مفہوم

توکل کا مطلب اسباب کو چھوڑ دینا نہیں بلکہ جائز اسباب کو اختیار کر کے نتائج کو اللہ کی ذات کے سپرد کرنا ہے۔ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام نے جنگوں میں زرہ پہنی، خندقیں کھودیں، تلواریں اٹھائیں اور مکمل تدبیر اختیار فرمائی، لیکن ہمیشہ فتح و نصرت کی امید صرف اللہ رب العزت کی مدد سے رکھی۔ یہی ایمان اور عمل کا وہ سنہری توازن ہے جو ایک مومن کو متحرک، باحوصلہ اور پرسکون بناتا ہے۔